Tuesday, 08 August, 2006, 09:42 GMT 14:42 PST
ایک امریکی ٹھیکیدار کے خلاف امریکہ میں عدالتی کارروائی شروع کی گئی ہے جس پر 2003 میں افغانستان میں ایک قیدی کو جسمانی تشدد کرکے ہلاک کرنے کے الزامات ہیں۔ اس ٹھیکیدار نے افغانستان میں امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے لیئے کام کیا تھا۔
ڈیوڈ پسارو پر الزام ہے کہ افغانستان میں ایک امریکی فوجی اڈے پر ایک افغان قیدی عبدل ولی سے پوچھ گچھ کے دوران مسلسل جسمانی تشدد کیا تھا۔ اس تشدد کے اگلے ہی روز عبدل ولی کی موت واقع ہوگئی۔
عبدل ولی نے رضاکارانہ طور پر امریکی فوج کے سامنے ہتھیار ڈالے تھے۔
ڈیوڈ پسارو وہ پہلا امریکی غیر فوجی ہے جس پر افغان قیدیوں کے ساتھ بدسلوکی کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ تاہم وہ ان الزامات کو رد کرتا ہے۔
ڈیوڈ پسارو پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ اس نے شمالی افغانستان میں ایک امریکی فوجی اڈے پر دو روزہ تفتیش کے دوران ولی کے ٹانگوں کے بیچ میں لاتیں ماریں اور ایک لوہے کی ٹارچ سے مزید جسمانی تشدد کیا۔
ڈیوڈ پر ولی کے خلاف خطرناک ہتھیار استعمال کرنے کے دو الزامات اور مزید دو الزامات ہیں۔
اگر ڈیوڈ پسارو پر جرم ثابت ہوگیا تو انہیں 40 سال تک کی قید اور ایک ملین ڈالر جرمانے کی سزا ہوسکتی ہے۔
عبدل ولی پر الزام تھا کہ انہوں نے امریکی فوجی اڈے پر راکٹوں سے حملہ کیا تھا۔
افغان حکام نے ڈیوڈ پسارو کے خلاف عدالتی الزامات کو ’اچھی مثال‘ قرار دیا ہے۔ بش انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ایسے مقدمات بہت کم ہوتے ہیں۔