Sunday, 06 August, 2006, 15:18 GMT 20:18 PST
اطلاعات کے مطابق تامل باغیوں کے پانی کے ایک ذخیرے کو دوبارہ کھولنے پر رضا مندی ظاہر کرنے کے چند گھنٹے بعد سری لنکن فوج نے اس ذخیرے پر تازہ حملے کیے ہیں۔
تامل باغیوں نے خبردار کیا تھا کہ حکومت کی جانب سے تازہ حملوں کو اعلان جنگ تصور کیا جائے گا۔ دونوں جانب سے لڑائی اس وقت شروع ہوئی جب تامل باغیوں نے شمال مشرق میں حکومت کے زیر کنٹرول دیہاتوں کو پانی کی فراہمی دو ہفتے قبل منقطع کردی تھی۔
تاہم حکومتی ترجمان کا کہنا ہے کہ تامل باغی روز مرہ استعمال کی چیزوں کو سودے بازی کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔
ناروے کے مصالحتی مندوب کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے بعد تامل باغیوں نے لڑائی ختم کرنے اور پندرہ ہزار خاندانوں کو پانی فراہم کیے جانے پر رضا مندی ظاہر کر دی تھی۔ تاہم حکومت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ حکومت ان مذاکرات میں شریک نہیں تھی۔
ترجمان نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ’ہم دہشت گردوں کو پانی کی سپلائی بحال کرنے کے لیے علاقے میں آنے کی اجازت نہیں دینا چاہتے۔ انہیں اس کام کے لیے اریگیشن انجینئروں کو اجازت دینی ہوگی بصورت دیگر ہم یہ کام خود کر لیں گے‘۔
باغیوں کا کہنا ہے کہ نارویجن مندوب کی جانب سے یہ وعدہ کیا گیا تھا کہ حکام پانی کے راستے کے قریب واقع تامل علاقوں میں لوگوں کو درپیش مسائل دور کرنے کے لیے غور کریں گے۔
![]() | |
| پانی کے راستے کے قریب بسنے والے تامل افراد مسائل کا شکار ہیں |
تامل باغیوں کو سنیچر کو گزشتہ ایک ہفتے سے جاری لڑائی کے دوران شمال مشرقی گاؤں متر سے پسپا ہونا پڑا۔ تاہم باغیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے فوج کے کئی کیمپوں کو تباہ کرکے گاؤں متر پر قبضہ کر لیا ہے۔
اس مسلم اکثریتی علاقے کے بیس ہزار رہائشی تحفظ کے لیے جمعہ کو آس پاس کے دیہاتوں کو نقل مکانی کر گئے ہیں۔ فوج نے تامل باغیوں پر سو شہریوں کو ہلاک کرنے کا الزام بھی لگایا ہے۔