Sunday, 06 August, 2006, 16:38 GMT 21:38 PST
فلسطین کے صدر محمود عباس کے سینئر معاون نے عالمی برادری سے اسرائیلی فوج کے زیر حراست فلسطینی پارلیمان کے سپیکر کی رہائی کے لیے مداخلت کی اپیل کی ہے۔
صدر کے سینئر معاون صعیب اراکات کا کہنا تھا کہ اسرائیلی فوج کی حالیہ کارروائی فلسطین میں جمہوری عمل کے لیئے خطرہ ہے اور اس سے قیدیوں کے تبادلے کے ممکنہ معاہدے تک پہنچنے کا موقع بھی ضائع ہو گیا ہے۔
اتوار کو 20 گاڑیوں پر مشتمل اسرائیلی فوجی دستے نے رملہ میں فلسطینی سپیکر عزیز دویک کے گھر کا محاصرہ کرکے انہیں حراست میں لیا تھا۔ عزیز دویک حماس کے رکن بھی ہیں۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ عزیز دویک کو اس لیے حراست میں کیا گیا کیونکہ وہ حماس کے رکن ہونے کی حیثیت سے اس دہشت گرد تنظیم کا حصہ ہیں۔
گزشتہ چھ ہفتوں کے دوران اسرائیلی فوج نے فلسطین کے کئی سیاسی رہنماؤں کو حراست میں لیا ہے اور عزیز دویک اس تعداد میں تازہ اضافہ ہیں۔
فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حراست میں اس وقت 27 ارکان پارلیمان اور سات وزراء ہیں۔ اس سے قبل فلسطینی وزیر اعظم اسمٰعیل ہانیہ نے اس عزیز دویک کے حراست میں لیے جانے کے عمل پر اسرائیل کی مذمت کی تھی۔
جون میں ایک اسرائیلی فوجی کو قیدی بنائے جانے کے بعد سے اب تک اسرائیلی کارروائیوں میں ڈیڑھ سو سے زائد فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔