Sunday, 06 August, 2006, 11:53 GMT 16:53 PST
نک چائلڈز
بی بی سی، بیروت
بیروت میں وزیر اعظم فود سینیورا سے لے کر عوام تک کا خیال یہی ہے کہ اقوام متحدہ کی قرار داد ان کی توقعات پر پورا نہیں اتری۔
حقیقت بھی یہی ہے کہ لبنان کی نازک حکومت کے لیئے، جس میں حزب اللہ کے ارکان بھی شامل ہیں‘ اس قرار داد پر اس کی موجودہ شکل پر اتفاق کرنا انتہائی مشکل ہوگا۔
دوسری جانب اسرائیل کے لیئے یہ قرار داد خاصی لچکدار ہے اور اسے کافی حد تک عسکری ڈھیل دی گئی ہے۔ قرار داد کے مطابق اگر سیز فائر ہوا تو اس سے خلا پیدا ہوجائے گا چنانچہ بین الاقوامی امن فوج کی تعیناتی تک یہاں لڑائی نہیں روکی جائے گی۔
ان شرائط پر کوئی بھی معاہدہ کرنا مشکل نظر آتا ہے۔ لبنان کی پوزیشن کمزور ہے اور وہ اس قرار داد سے شدید سفارتی دباؤ میں آجائے گا۔
![]() | |
| اسرائیل کے لیئے قرار داد خاصی لچکدار ہے |
ممکن ہے کہ اسرائیل میں خیال ہو کہ اس معاملے کا سیاسی حل ہونا چاہیئے۔ لیکن حکومت حزب اللہ سے کوئی بھی ایسا معاہدہ نہیں کرنا چاہتی جو مبہم دکھائی دے۔
فی الوقت تو یہ نہیں لگتا کہ اسرائیل اپنی فتح کا اعلان کرکے اندرونی اور بیرونی حلقوں کو مطمئن کرسکتا ہے۔
نتیجہ یہی ہوگا کہ اقوام متحدہ کی قرار داد کے باوجود بھی مستقبل میں کشیدگی، مسائل، عدم استحکام اور پر تشدد کارروائیوں کا امکان رہے گا۔
فریقین ممالک کے بیشتر عوام شاید تشدد آمیزی کا خاتمہ چاہتے ہوں گے لیکن دونوں ملکوں کے سفارتی حلقے ابھی ایسی سوچ سے کوسوں دور ہیں۔