Sunday, 06 August, 2006, 11:14 GMT 16:14 PST
جوہری معاملات پر مذاکرات کے لیئے ایران کے اعلیٰ ترین اہلکار علی لاراجانی نے اس امکان کو مسترد کر دیا ہے کہ ان کا ملک جوہری سرگرمیاں روک دے گا۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے لاراجانی نے کہا ہے کہ ایران اپنا جوہری پروگرام نہ صرف جاری رکھے گا بلکہ جب ضرورت ہوگی اس میں توسیع بھی کرے گا۔
اگر سلامتی کونسل کے ارکان میں روس اور چین بھی آمادہ ہو گئے تو ایران کے اس اعلان کے بعد سکیورٹی کونسل وہ پابندیاں لگا سکتی ہے جن کے لیے ایران کو پہلے ہی متنبہ کیا جا چکا ہے۔
ڈاکٹر لاراجانی نے مغربی ملکوں کو متنبہ کیا کہ وہ ایسے اقدام نہ کریں جن کے نتیجے میں ایران کو جوہری تنصیبات کے عالمی معائنہ کاروں کی رسائی محدود کرنی پڑے۔
![]() | |
| پابندیاں لگائی گئیں مغرب کو زیادہ دشواریوں کا سامنا کرنا پڑے گا |
اس موقف سے ایران کا مطلب یہ عندیہ دینا ہے کہ اگر اس پر پابندیاں لگائی گئیں تو تخفیف اسلحہ کے عالمی معاہدے سے علیحدہ ہو جائے گا اور ایران اس سے پہلے بھی کئی باراس کا اعادہ کر چکا ہے۔
مذاکرات کاری کے ایرانی سربراہ نے شکایت کی کہ مغربی ملکوں نے ایران کو جوہری پروگرام ترک کرنے کے لیئے مراعات کے ایک پیکیج کی پیشکش کی تھی لیکن تہران کے جواب کا انتظار نہیں کیا گیا۔
ان کا کہنا ہے کہ انتظار کے برخلاف سلامتی کونسل نے غیر قانونی طور پر ایران کے خلاف ایک قرارداد منظور کر دی۔
اگست کے بعد |
اس کے برخلاف مغربی ملکوں کا کہنا ہے کہ ایران کو اس کے جوہری پروگرام روکنے کے بدلے ایک مراعاتی پیکج کی پیش کش کی تھی لیکن ایران نے اس میں کسی دلچسپی کا اظہار نہیں کیا اور کہا کہ اسے جواب دینے کے لیئے تین ماہ کا وقت دیا جائے جس کا مقصد محض معاملات میں تاخیر کرانا تھا۔
بی بی سی کی فرانسس ہیریسن کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر لاراجانی کے اس بیان کے بعد ایران اور مغربی ملکوں کے درمیان مفاہمت کی گنجائش بہت کم رہ گئی ہے اور یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ایران نے یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام ایسا ہے جس کے لیئے وہ مغرب سے محاذ آرائی کا راستہ بھی اختیار کر سکتا ہے۔
اب ایران کو اگست کے اختتام تک کی ڈیڈ لائن دی گئی ہے اور اگر یہ وقت بھی گزر جاتا ہے تو پھر یہ دیکھنا ہو گا کہ امریکہ کو ایران کے خلاف روس اور چین کو کسی اقدام کے لیئے آمادہ کرنے میں کتنا وقت لگتا ہے۔