Saturday, 05 August, 2006, 22:16 GMT 03:16 PST
وسعت اللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام بیروت
امریکہ اور فرانس کے درمیان لبنان کی صورتحال کے بارے میں قرار داد کے مسودے پر اتفاق ہو گیا ہے اور اب اسے منظوری کے لیئے سلامتی کونسل میں پیش کیا جائے گا۔ مسودے میں حزب اللہ سے حملے بند کرنے کے لیئے کہا گیا ہے جبکہ اسرائیل سے کہا گیا ہے کہ وہ جارحانہ فوجی کارروائی بند کر دے۔
تاہم خاصا مشکل لگ رہا ہے کہ حزب اللہ والے اس قرارداد کو مان جائیں گے۔ انہیں اس قرارداد میں فریق بنایا ہی نہیں گیا، اسرائیل سے بات کی گئی ہے۔ اسرائیلی کابینہ کے ایک وزیر آئزک ہرزوگ نے مسودے کو ’اہم پیش رفت‘ قرار دیا لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا ہے کہ اسرائیلی مسودے کی مکمل تفصیلات جاننے کے بعد ہی رد عمل دے گا۔ انہوں نے کہا کہ قرار داد کی منظوری تک حزب اللہ کے خلاف کارروائی جاری رہے گی۔
حزب اللہ کے رویے کا اس بات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ان کے لبنانی حکومت میں شامل وزیر محمد فنیش کا کہنا ہے کہ حزب اللہ تب ہی جنگ بندی قبول کرے گی جب اسرائیلی فوج جنوبی لبنان سے چلی جائے گی۔ دوسری بات یہ کہ کچھ روز قبل ایران کے وزیر خارجہ منوچہر متقی پچھلے ہفتے بیروت آئے تھے اور ایران کو تو لبنان کے وزیر اعظم کا سات نکاتی منصوبہ تک منظور نہیں ہے۔
حزب اللہ کا کہنا ہے کہ سن دو ہزار میں لبنان میں اٹھارہ سال کے بعد اسرائیلی فوج کا انخلاء ان کی مرہون منت ہے۔ وہ کہتے ہیں لبنان کے سینکڑوں قیدی اسرائیلی جیلوں میں ہیں جن کو چھڑوانے کے لیئے انہوں نے دو اسرائیلی فوجی پکڑے تھے۔
اب جب دس ہزار اسرائیلی فوجی لبنان میں موجود ہوں، پچیس دن کی لڑائی میں تقریباً نو سو لبنانی ہلاک ہوئے ہوں اور بقول لبنانی حکومت کے بارہ دیہات ختم ہو گئے ہوں تو ایسی صورتحال میں حزب اللہ کا کسی ایسی قرارداد کو منظور کرنا ممکن دکھائی نہیں دیتا جس میں کہا گیا ہو کہ بین الاقوامی فوج کی تعیناتی تک اسرائیلی فوج جنوبی لبنان میں رہ سکتی ہے۔
ادھر امریکی نائب وزیر خارجہ ڈیوڈ ویلش نے لبنانی حکام سے ملاقات کی لیکن نہیں لگتا کہ اس کا کوئی نتیجہ نکلا ہے کیونکہ فریقین نے کوئی مشترکہ اعلامیہ جاری نہیں کیا۔
مقامی مبصرین کو ایسا لگ رہا ہے کہ جس طرح کی قرار داد کے مسودے پرامریکہ اور فرانس میں اتفاق ہوا ہے اسے سمجھنے کے لیئے کافی وقت چاہیے اور اس طرح امریکہ اور اسرائیل کو اپنے اہداف حاصل کرنے کے لیئے کچھ وقت اور مِل جائے گا۔ یہاں لوگ اس مسودے کو مزید وقت حاصل کرنے کا بہانہ قرار دے رہے ہیں۔