Thursday, 03 August, 2006, 09:53 GMT 14:53 PST
وسعت اللہ خان
بی بی سی اردو، بیروت
تازہ ترین اھلاعات کے مطابق اسرائیل نے لبنان کے چھ کلو میٹر اندر گیارہ دیہاتوں پر یلغار کر دی ہے اور گھمسان کی لڑائی جاری ہے۔ یہ یلغار اسرائیل کی سات برگیڈ نے کی ہے۔
لبنانی ذرائع کا کہنا ہے کہ 23 دنوں کی لڑائی میں حزب اللہ کے 80 چھاپہ مار ہلاک ہوئے ہیں جب کہ اسرائیلی ذرائع ہلاک ہونے والے چھاپہ ماروں کی تعداد 300 بتاتے ہیں۔
اس دوران شمالی اسرائیل پر حزب اللہ کے راکٹ حملے جاری ہیں اور سہہ پہر تک 70 سے زائد راکٹ داغے جا چکے تھے۔ ان راکٹوں کے نتیجے میں اسرائیلی ذرائع کے مطابق پانچ اسرائیلی شہری ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں سے دو کا تعلق حیفہ کے قریب واقع ایکر کے علاقے سے بتایا جاتا ہے۔
اس سے قبل ملنے والی اطلاعت میں بتایا گیا تھا کہ اسرائیلی فضائیہ نے تقریباً ایک ہفتے کے وقفے کے بعد جنوبی بیروت پر پھر بمباری کی ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹر نے لبنانی وزیر اعظم فؤاد السنيورہ کے حوالے سے کہا ہے کہ تئیس روز کے اسرائیلی حملوں میں ابتک نو سو عام لبنانی شہری ہلاک، تین ہزار زخمی اور ایک ملین کے قریب در بدر ہو چکے ہیں۔
مقامی ذرائع کے مطابق بیروت میں یہ حملے جمعرات کی صبح دو بجے کے بعد کیے گئے۔چار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں اور جنوبی بیروت کے طہیہ کےعلاقے کو نشانہ بنایا گیا جہاں لڑائی کے شروع میں بھی بمباری ہوتی رہی ہے۔
اسرائیلی طیاروں نے شمالی وادی بیکا میں شامی سرحد کے قریب عقار کے علاقے میں ایک سڑک کو بھی نشانہ بنایا اور اطلاعات کے مطابق پل کو نقصان پہنچا ہے۔یہ پل لبنان کو شام سے ملانے والے ایک متبادل راستے پر واقع ہے۔
بیروت سے دمشق جانے والی شاہراہ پہلے ہی متعدد اسرائیلی حملوں کے سبب بند پڑی ہے۔
اسرائیل گزشہ تین ہفتوں میں اہم شاہراہوں پر واقع ساٹھ سے زائد پلوں کو نقصان پہنچا چکا ہے۔
ادھر لبنان کے جنوبی شہر طائر پر بھی اسرائیل نے گولے پھینکے ہیں۔ ایک اسرائیلی ترجمان کے مطابق اسرائیلی فضائیہ نے رات میں لگ بھگ 120 سے زائد کارروائیاں کی ہیں۔
زیادہ تر کارروائیاں جنوبی لبنان کے سرحدی علاقوں میں ہوئیں جہاں اطلاعات کے مطابق گزشتہ روز پیتا الشعاب نامی گاؤں کے قریب لڑائی میں ایک اسرائیلی فوجی ہلاک اور چار دیگر زخمی ہو گئے تھے۔
اس دوران حزب اللہ نے شمالی اسرائیل پر راکٹ حملے جاری رکھے ہوئے ہیں اور جمعرات کی صبح تازہ حملے میں تیس کے قریب راکٹ فائر کیے گئے ہیں۔
اھر اسرائیل نے اپنی ایک محکمانہ انکوئری میں کہا ہے کہ گزشتہ سنیچر کو جنوبی لبنان کے گاؤں قانا میں ایک تین منزلہ عمارت کو نشانے سے جن چوون افراد کی ہلاکت ہو ئی تھی، اسرائیل نے ان کو جان بوجھ کر نشانہ نہیں بنایا تھا۔
اسرائیلی فضائیہ کے سربراہ نے کہا کہ اگر ان کو ذرہ سا بھی محسوس ہوتا کہ وہاں عام شہری ہیں تو وہ کبھی اس عمارت پر حملہ نہ کرتے۔
ادھر انسانی حقوق کے ادارے ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ تاحال قانا کی تباہ حال عمارت سے اب تک اٹھائیس لاشیں نکالی گئی ہیں جبکہ تیرہ ابھی لاپتہ ہیں۔ اس سے پہلے ملنے والی اطلاعات میں بتایا جاتا رہا ہے کہ قانا میں سینتیسں بچوں سمیت چوون افراد ہلاک ہوئے تھے۔
اقوام متحدہ میں برطانیہ کے سفیر ایمپر جونز پیری نے کہا ہے کہ لبنان میں لڑائی بند کروانے کے بارے میں قرار داد پر عنقریب اتفاق رائے ہو جائے گا۔ واشنگٹن میں امریکی حکومت کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ قرار داد کے مسودے کو چند روز میں حتمی شکل دے دی جائے گی۔ بی بی سی کے سفارتی نامہ نگار کے مطابق پہلی قرارداد فوری فائر بندی کے بارے میں ہوگی جس کے بعد دوسری قرارداد مستقل حل کے بارے میں ہوگی۔
ملائشیا میں جمعرات کو اسلامی ممالک کی تنظیم کا اجلاس ہو رہا ہے جس میں وہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا۔ ملائشیا کی وزارت خارجہ نے امید ظاہر کی ہے کہ اسلامی ممالک کی تنظیم کے اس اجلاس میں لبنان میں غیر مشروط فائربندی اور جنوبی لبنان میں اقوام متحدہ کی امن فوج کی تعیناتی کا مطالبہ کیا جائے گا۔
بدھ کے روز اسرائیلی وزیراعظم ایہود اولمرت نے کہا تھا کہ اسرائیل لبنان میں اپنے مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب رہا ہے تاہم یہ اسرائیل پر راکٹ حملوں کے مکمل خاتمے کی ضمانت نہیں ہے۔
حیفہ کے نزدیک نہاریہ میں ایک اسرائیلی گھر حزب اللہ کے راکٹ حملے کا نشانہ بنا جس سے ایک شہری ہلاک اور چالیس زخمی ہوگئے۔
حزب اللہ نے پہلی مرتبہ خیبر ون نامی میزائل بھی فائر کیا جو اسرائیلی سرحد کے اندر ستر کلومٹیر کے فاصلے پر واقع بیت شین کے مقام پرگرا۔ یہ پہلا موقع تھا کہ حزب اللہ کی جانب سے پھینکے جانے والے راکٹ اور میزائل مغربی کنارے کے علاقے تک پہنچے۔
گزشتہ ہفتے حزب اللہ کا ایک راکٹ اسرائیل کے اندر پچاس کلومیٹر کے فاصلے پر گرا تھا۔