پال رینالڈز
عالمی امور پر بی بی سی کے نامہ نگار
قانامیں ہونے والی اسرائیلی بمباری نے مشرق وسطی کے بحران کے حل کے لیے کی جانے والی سفارتی کوششوں میں اضافے کی فوری ضرورت کو واضح کیا ہے اور امریکہ پر مزید کسی تاخیر کے فوری جنگ بندی کے لیے دباؤ بڑھا ہے۔
اسرائیل نے جنوبی لبنان میں اڑتالیس گھنٹوں کے لیےحملے روکنے کا اعلان کیا ہے۔ اور اس کا یہ اعلان اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ وہ اب دفاعی پالیسی اپنانے کی ضرورت محسوس کرتا ہے۔ اگر اس مسئلے کے حل کے لیے سفارتی کوششیں تیز تر ہوتی ہیں تو حملوں کی یہ بندش جنگ بندی میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
تاہم ایسا نہیں ہے۔ امریکہ ۔برطانیہ اور فرانس اور دوسرے ممالک دو بڑے گروہ بن گئے ہیں اس مسئلے پر ان دونوں گروہوں کی رائے میں واضح اختلاف موجود ہے۔ فرانس اور دوسرے ممالک فوری جنگ بندی کا مطالبہ کر رہے ہیں جبکہ امریکہ اور برطانیہ فوری نہیں بلکہ کسی دیر پا جنگ بندی کے حق میں ہیں۔
اتوار کو سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس کے بعد جاری ہونے والے ایک بیان میں امریکی مخالفت کے باعث جنگ بندی کے حوالے سے فوری کے لفظ استعمال نہیں کیے گئے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان نے اجلاس میں سخت زبان استعمال کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بات کے قوی ثبوت موجود ہیں کہ دونوں جانب سے بنیادی انسانی حقوق کے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔
![]() | |
| قانا میں ہلاکتیں سے عوامی احتجاج میں اضافہ ہوا ہے |
اب سوال یہ ہے کہ آیا امریکہ کو اسرائیل کو مزید دس سےچودہ دن دینے چاہیں جس کے بارے میں اسرائیلی وزیراعظم ایہود اولمرت نے امریکی سیکریٹری کو بتایا تھا کہ حزب اللہ کے خاتمے کے لیے انہیں اس کی ضرورت ہے۔
اگر امریکہ چاہے تو وہ سلامتی کونسل کے منشور کے باب سات کی فوری جنگ بندی سے متعلق قرارداد کو ویٹو نہیں کرسکتا تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ تمام رکن ممالک اس قرار داد کی تائید کریں۔
امریکہ کا خیال یہ ہے کہ کوئی بھی قرار داد اس مسئلے کے دیرپا یا پائیدار حل کی بنیاد پر ہونی چاہیے اور اس سے پہلے اس پس منظر میں تمام بنیادی مسائل پر کوئی معاہدہ ضروری ہے۔ بنیادی مسائل جن کا تعلق حزب اللہ پر پابندی، بین الاقوامی امن فوج کی تعیناتی اور لبنانی حکومت کے اختیارات میں بتدریج
اضافہ ہے اور یہی وہ نکات ہیں جو کسی بھی قرار داد کی اساس ہوں گے۔
کونڈو لیزا رائس کو مشرق وسطی کے دورے کے دوران بتایا گیا تھا کہ حزب اللہ سمیت لبنانی حکومت نے ان بنیادی باتوں پر مشتمل ایک منصوبے کی منظوری دی ہے تاہم قانا میں ہونے والے حملوں نے مرحلہ والی ہونے والی اس سفارت کاری میں بگاڑ پیدا کر دیا ہے۔
لبنانی وزیراعظم فواد سینیورا کے اس بیان کے بعد کہ فوری جنگ بندی ہی پر بات کی جائے گی، رائس نے اپنا بیروت کا دورہ ملتوی کردیا جو وہاں کسی معاہدے کی تشکیل کے لیے جانا چاہتی تھیں۔انہیں یروشلم کے دورے کے دوران علم ہوا کہ اقوام متحدہ کی جنگ بندی سے متعلق قرار داد پر کام تیز کر دیا گیا ہے مگر ان کی جانب سے تاحال جنگ بندی کی کوئی بات نہیں کی گئی ہے۔
رائس کا کہنا تھا کہ ’ہم چاہتے ہیں کہ سلامتی کونسل اس معاملے میں جلد کوئی قدم اٹھائے اور امریکہ یہ بھی چاہتا ہے کہ اجلاس کے موقع پر ایک حقیقی جنگ بندی کے لیے واضح پیش قدمی کی جائے’۔
برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر جو امریکی موقف کی حمایت کر رہے ہیں، نے بھی اس معاملے میں جلد کوئی قدم اٹھانے کے بارے میں بات کی ہے۔ سان فرانسسکو میں بات کرتے ہوئے انہوں کہا کہ’اس قسم کی صورت حال جاری نہیں رہ سکتی’۔
اقوام متحدہ میں برطانوی سفیر سر ایمر جونز پیرے نے جنگی کاروائیوں کے خاتمے اور سیاسی بنیاد پردیر پا حل کی بات کی ہے۔