Sunday, 30 July, 2006, 15:37 GMT 20:37 PST
احمد کمال
اقوام متحدہ میں سابق پاکستانی سفیر
قانا میں ایک عمارت پر اسرائیلی بمباری میں سینتیس بچوں سمیت پچاس سے زائد ہلاکتوں کے بعد اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کا اجلاس ہورہا ہے جس کے بارے میں سابق پاکستانی سفارت کار احمد کمال نے اجلاس سے قبل حسب ذیل تاثرات دیے:
بہت مشکل ہے کہ اس اجلاس میں یا تو مذمت ہو یا فوری طور پر کسی طرح جنگ بندی کی جائے۔ یہ دونوں کارروائی کی باتیں ہیں اور جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کارروائی میں امریکہ کا ویٹو ہوتا ہے۔
قنا میں آج کا حادثہ کافی المناک ہے، چون افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں سنا ہے کہ سینتیس بچے تھے لیکن یہ پہلا حادثہ نہیں ہے۔ بالکل اسی شہر میں آج سے دس سال پہلے اسرائیل نے اقوام متحدہ کے کمپاؤنڈ میں حملہ کیا تھا اور اس میں سو سے زیادہ سویلین ہلاک ہوئے تھے۔
دوسری بات یہ کہ روز کہیں نہ کہیں اسرائیل کی بمباری تو جاری ہے، روز لوگ مررہے ہیں۔ قانا کا حادثہ المناک ہے جس پر لبنان کے وزیراعظم نے امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس کو کہا کہ وہ بیروت نہ آئیں۔ لہذا رائس اپنا دورہ ختم کرکے واپس واشنگٹن آرہی ہیں۔
چنانچہ سب کو یہ احساس ہوگیا ہے کہ یہ المناک حادثہ ہے۔ لیکن جنگ بندی صرف تب ہوگی جب امریکہ اور اسرائیل دونوں کو پورا احساس ہوجائےگا کہ لبنان سے حزب اللہ کو اور غزہ سے حماس کو ختم نہیں کیا جاسکتا، یہ احساس ابھی دل میں پورا نہیں بیٹھا ہے۔
مسلم ممالک اور اسرائیل کے ہمسایہ ممالک نے شروع میں حزب اللہ کے خلاف بیانات دیے تھے لیکن اب ان کے عوام سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ چنانچہ شاہ عبداللہ نے اردن میں اس حادثے کو ایک قابل الزام جرم قرار دیا ہے۔ مصر میں لوگ سڑکوں پر نکل آئے ہیں، مسلم ہمسایہ ممالک میں عوام کی رائے بدل رہی ہے اور اس کی وجہ سے ان کی حکومتوں کی پالیسی بھی اب آہستہ آہستہ بدلے گی۔
سلامتی کونسل کے اجلاس میں جنگ بندی کی بات پر تو فورا امریکہ کا ویٹو آئے گا۔ آج اسرائیل سے چلتے وقت کونڈولیزا رائس نے اپنے بیان میں فوری جنگ بندی کا کوئی مطالبہ نہیں کیا۔
دوسری جانب اگر آپ گنتی کریں تو دیکھیں گے کہ ابھی تک مسلم ممالک کی حکومتوں نے کوئی سخت بیان نہیں جاری کیا ہے۔