Saturday, 29 July, 2006, 16:49 GMT 21:49 PST
وسعت اللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام بیروت
اسرائیل نے فائربندی کا مطالبہ مسترد کر دیا ہے۔ لبنان میں بمباری کے ساتھ ساتھ مسلسل مختلف بیانات آ رہے ہیں اور معلوم ہوتا ہے کہ پراپگینڈے کی جنگ جاری ہے۔ امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس ایک بار پھر علاقے کا دورہ کرنے والی ہیں اور دیکھنا یہ ہے کہ اس کا کوئی ٹھوس نتیجہ نکلتا ہے یا نہیں۔
سفارتی کارروائی جس کا اب تک ٹھوس نتیتجہ نہیں نکل پایا اور بیان بازی میں عام لوگ بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔
اسرائیل خود کنفیوز ہے۔ ایک طرف وہ کہتا ہے کہ حزب اللہ امدادی کارروائیوں میں رکاوٹ ڈال رہی ہے اور دوسری طرف وہ کہتے ہیں کہ اگر فائر بندی کا مطالبہ مان لیا جائے تو حزب اللہ کو اکٹھا ہونے کا موقع مِل جائے گا۔
اسرائیلی سرحد کے قریبی شہر طائر کو محفوظ علاقہ تصور کیا جاتا تھا اور بڑی تعداد میں بے گھر ہونے والے لوگ وہاں جمع ہو رہے تھے لیکن وہاں بمباری شروع ہونے کے بعد لوگوں کو وہاں سے نکلنا پڑ رہا ہے۔ وہاں مسلسل بمباری ہو رہی ہے اور تاک تاک کر نشانے لگائے جا رہے ہیں۔
مغربی بیروت کے ایک سکول کا دورہ
مغربی بیروت کے ایک آٹھ کمروں اور دو ہالوں میں ایک سو دس خاندان رہ رہے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر اسرائیلی سرحد سے متصل دیہات سے آئے ہیں اور ایک اچھی خاصی تعداد کا تعلق بیروت سے ہی ہے۔
انہیں پناہ گزینوں میں ایک سکول ٹیچر لینا بھی تھیں جو اپنے خاوند اور دو بچوں کے ساتھ وہاں رہنے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ خوراک اور ادویات تو میسر ہیں لیکن پانی کی شدید قلت ہے۔ لینا کو انیس سو ستانوے میں بھی اسرائیلی بمباری کی وجہ سے گھر چھوڑنا پڑا تھا۔
لینا کے چھ سالہ بیٹے جعفر نے لبنان کے لیئے ایک ترانہ بھی سنایا جس کا مفہوم تھا کہ لبنان اس کے خون میں بستا ہے۔ جعفر کے دوست محمد جمال نے کہا کہ اسے اس سکول میں بھی ڈر لگتا ہے کہ اسرائیلی طیارے آ جائیں گے۔
اسی سکول میں ایک اور پناہ گزیں حسن طاہر سے ملاقات ہوئی جو اپنے چھ بچوں کے ساتھ وہاں موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ وہ یہاں اپنے آپ کو محفوظ سمجھتے ہیں کیونکہ سعودی سفیر بھی وہیں رہ رہے ہیں۔
کیمپ میں آٹھ سالہ بچی فرح نے عربی زبان میں ایک گیت سنایا جس میں وہ پرندے سے پوچھتی ہیں کہ اس کا گھر کدھر ہے۔’ہم بھی تو تمہاری طرح خوبصورت ہیں لیکن تم آزادی سے آڑتے پھر رہے ہو۔ اے پرندے آخر تماہرا گھر کہاں ہے‘۔