Saturday, 29 July, 2006, 03:34 GMT 08:34 PST
نئے حملوں کے بعد کہا جا رہا ہے کہ اسرائیل کی ایک تہائی آبادی حزب اللہ راکٹوں کی زد میں آ چکی ہے۔ ادھر اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ اس نے حزب اللہ 26 ارکان کو ہلاک کر دیا ہے۔
اس دوران حزب اللہ نے شمالی اسرائیل پر ایک سو سے زیادہ راکٹ داغے ہیں اور ان میں وہ نئے دور مار راکٹ بھی شامل ہیں جنہیں خیبر- ون کہا جا رہا ہے اور جو افولا نامی قصبے کے قریب گرے ہیں جو اسرائیل کی سرحد کے پچاس کلو میٹر اندر واقع ہے۔
یروشلم سے صحافی ہریندر مشرا کا کہنا ہے کہ افولا میں اس سے پہلے بھی راکٹ گرتے رہے ہیں اور ان میں سے کئی عمارتوں کو بھی لگے ہیں لیکن جمعہ کو حزب اللہ نے جو راکٹ داغے ہیں ان کے بعد کہا جا رہا ہے کہ اسرائیل کی ایک تہائی آبادی حزب اللہ کے راکٹوں کو زد میں آ چکی ہے۔
جمعہ کو داغے جانے والے راکٹوں کے بعد افولا سے اسرائیلیوں کی بڑی تعداد نقل مکانی کر گئی ہے اور پہلی بار لوگوں میں خوف دیکھا گیا ہے۔
![]() | |
اسرائیلی پولیس کے ترجمان مکی راسن فلس کا کہنا ہے کہ ’یہ انتہائی خطرناک راکٹ ہیں۔ اگرچہ یہ راکٹ ایسے علاقے میں گرے ہیں کہ کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا لیکن جہاں یہ راکٹ گرے ہیں وہاں بڑے اور گہرے گڑھے بن گئے ہیں۔‘