http://bbc.com.im/urdu/

Saturday, 29 July, 2006, 18:24 GMT 23:24 PST

غزہ پر اسرائیل کے مسلسل حملے

اسرائیل فلسطین میں غزہ پر اپنے حملے جاری رکھے ہوئے ہے جن میں اس نے ہفتے کے روز مشتبہ اسلحہ کی فیکٹری پر بھی فضائی حملہ کیا۔

اسرائیلی فوج کے مطابق اس نے فلسطینی شدت پسندوں کے زیرِاستعمال ایک سرنگ کو بھی بمباری کا نشانہ بنایا ہے۔

اسرائیل نے دو روز حملہ جاری رکھا جس میں 29 فلسطینی ہلاک ہوئے جس کے بعد جمعہ کے روز اس نے اپنی فوجیں ہٹا لیں۔

ان نئے حملوں کا سلسلہ اس وقت شروع ہوا جب فلسطینی رہنماء محمود عباس مصر کے صدر حسنی مبارک کے ساتھ تشدد کا سلسلہ ختم کرنے کے لیے مختلف تجاویز پر بحث کرنے کے لیے ملاقات کر رہے تھے۔

فـضائی حملوں میں ابھی تک کسی کے ہلاک ہونے کی اطلاعات موصول نہیں ہوئیں۔

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے غزہ میں شدت پسند گروپوں کو کمزور کرنے کے لیے چار جگہوں پر اسلحہ کے ذخیروں پر حملہ کیا ہے۔

اس نے 25 ’دہشت گرد‘ مارنے کا دعویٰ کیا ہے۔

فلسطینی شدت پسندوں کے ہاتھوں ایک ماہ قبل ایک کم عمر اسرائیلی فوجی کے اغوا کے بعد اسرائیل فلسطین پر فضائی اور زمینی حملے کر رہا ہے جس میں 100 سے زائد فلسطینی ہلاک ہو گئے ہیں جن میں اکثریت شہریوں کی ہے۔

بی بی سی کے عرب امور کے تجزیہ نگار مگدی ابدلہادی کہتے ہیں کہ لبنان پر اسرائیلی حملوں کی شدت نے غزہ کی پٹی پر کیے جانے والے تشدد سے توجہ ہٹا دی ہے۔

حسنی مبارک اور محمود عباس ایسی تجاویز پر غور کر رہے تھے جن کی مدد سے لڑائی کو روکا جا سکے۔

رپورٹوں کے مطابق محمود عباس اب یہ کوشش کر رہے ہیں کہ مصر کی تجویز کے مطابق وہ یرغمال بنائے گئے اسرائیلی فوجی کے بدلے میں وہ فلسطینی قیدیوں کو رہا کروائیں۔

ہمارے نمائندے کے مطابق فلسطینی رہنما، وزیر خارجہ کانڈلیزا رائس کے دوسرے دورے کے دوران یہ کوشش کریں گے کہ ان کی توجہ فلسطینی لوگوں کی تکلیف کی طرف بھی دلوائی جائے۔

محمود عباس کا دورہ مصر ان کے علاقائی دورے کا حصہ ہے جس میں وہ سعودی عرب اور خلیجی ریاستوں کا دورہ بھی کریں گے۔