Thursday, 27 July, 2006, 23:49 GMT 04:49 PST
اقوام متحدہ میں سلامتی کونسل میں منگل کو لبنان میں اسرائیلی بمباری سے اقوام متحدہ کے چار مبصرین کی ہلاکت حیرت اور رنج کا اظہار کیا ہے لیکن اس کی مذمت نہیں کی۔
چین کے مندوب نے کہا ہے کہ اس قرار داد کا متن بہت کمزور ہے لیکن اسے منظور کرنے سے کسی حد تک مرنے والوں سے انصاف ہو گا۔
ان کا کہنا تھا کہ سلامتی کونسل اور اس میں کام کرنے والے تمام لوگوں کے ساتھ انصاف کے لیئے بھی یہ قرار داد ضروری تھی۔
ادھر یورپی یونین کے رہنماؤں نے اسرائیل سے سخت الفاظ میں کہا ہے کہ اس کا یہ کہنا غلط ہے کہ دنیا نے اسے لبنان پر فوج کشی کی اجازت دے دی گئی ہے۔
اس سے قبل اسرائیلی وزیرِ قانون نے کہا تھا کہ روم میں منعقد ہونے والے اجلاس میں جنگ بندی کے کسی مطالبے کے سامنے نہ آنے سے اسرائیل کی مہم کوگرین سگنل مل گیا ہے۔
انہوں نے یہ بات اسرائیلی فوجی ریڈیو سے نشر کی جانے والی ایک گفتگو کے فوران کہی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ گزشتہ روز روم میں دراصل ہمیں اس امر کی اجازت مل گئی کہ ہم اس وقت تک اپنا آپریشن جاری رکھیں جب تک جنوبی لبنان سے حزب اللہ کا صفایا نہیں ہو جاتا‘۔
اب جرمنی کے وزیرخارجہ نے کہا ہے کہ روم میں ہونے والی کانفرنس کے نتائج کی یہ تشریح کرنا اسرائیل کو لبنان پر فوج کشی کی اجازت دے دی گئی ہے ایک بہت بڑی غلط فہمی ہے۔
ادھر اقوام متحدہ میں سلامتی کونسل میں منگل کو لبنان میں اسرائیلی بمباری سے اقوام متحدہ کے چار مبصرین کی ہلاکت حیرت اور رنج کا اظہار کیا ہے لیکن اس کی مذمت نہیں کی۔
ادھر جنوبی لبنان پر اسرائیلی حملے جاری ہیں اوت سو افراد پر مشتمل ایک قافلہ ساحلی شہر طائر پہنچا ہے۔
![]() | |
| پارک میں پناہ حاصل کرنے وال چند لبنانی خاندان |
ان کا کہنا ہے لوگوں کے پاس نہ تو کھانے کے لیئے کچھ ہے اور نہ ہی پینے کے لیئے پانی۔
حزب اللہ کے جنگجؤں نے اس دوران شمالی اسرائیل پر مزید ستر سے زائد راکٹ پھینکے ہیں۔