Tuesday, 25 July, 2006, 09:08 GMT 14:08 PST
امریکہ عراق میں بگڑتی سکیورٹی صورتحال کے پیشِ نظر بغداد میں مزید ہزراوں فوجی تعینات کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
یہ معاملہ امریکی صدر بش اور عراقی وزیراعظم نوری المالکی کی ملاقات میں بھی زیرِ بحث آئے گا۔
وائٹ ہاؤس کے ترجمان ٹونی سنو کا کہنا ہے کہ یہ فوجی عراق کے دوسرے علاقوں سے بغداد بھیجے جائیں گے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ’عراقی دارالحکومت میں سکیورٹی کی صورتحال کی بہتری کے لیئے چھ ہفتے قبل نافذ کیا جانے والا منصوبہ ناکام رہا ہے‘۔
اقوامِ متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق عراق میں مئی اور جون میں اوسطاً روزانہ ایک سو شہری ہلاک ہوئے ہیں۔
وائٹ ہاؤس کے ترجمان کا کہنا تھا کہ’ یہ بات واضح ہے کہ بغداد میں زیادہ سے زیادہ افراتفری اور دہشت پھیلانے کی کوشش کی جا رہی ہے اور یہ ضروری ہے کہ ہم اس سے نمٹیں‘۔
عراقی وزیراعظم نے پیر کو لندن میں اپنے برطانوی ہم منصب سے ملاقات سے قبل کہا تھا کہ اگرچہ عراق میں فرقہ وارانہ تشدد ایک بہت بڑا مسئلہ ہے لیکن یہ سوچنا کہ عراق خانہ جنگی کی جانب بڑھ رہا ہے صحیح نہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ عراقی افواج جلد ہی ملک کے زیادہ تر علاقے کا کنٹرول سنبھال لیں گی اور یہ خیال غلط ہے کہ غیر ملکی افواج عراقی سرزمین پر کئی عشروں تک رہیں گی۔