Sunday, 23 July, 2006, 11:46 GMT 16:46 PST
اقوام متحدہ کے انسانی امداد کے کوآرڈینیٹر ژاں ایگلینڈ نے بیروت کا دورہ کیا ہے اور شہر کی حالت زار پر رنج و غم کے اظہار کے ساتھ اسرائیلی کارروائی کی شدید مذمت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ تباہی ’انسانی حقوق کے قوانین کی خلاف ورزی ہے‘۔
ژاں ایگلینڈ نے شہر کی تباہی کو ’ہیبت ناک‘ قرار دیا ہے۔ انہوں نے اس تنازع کے فریقین سے سیز فائر کی اپیل کی ہے اور اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ بمباری سے متاثر ہونے والے افراد تک امداد کی رسائی کے لیئے محفوظ رستوں کی اجازت دے۔
اقوام متحدہ کے نمائندے اتوار کو بیروت میں حزب اللہ کے مبینہ ٹھکانوں پر اسرائیلی طیاروں کی بمباری کے بعد پہنچے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ تباہی دیکھ کر سکتے کے عالم ہیں کہ ’اونچی عمارتوں کے بلاک در بلاک زمین بوس کردیئے گئے ہیں‘۔ کئی عمارتوں کے ملبے سے اب بھی دھواں اٹھ رہا ہے۔
اسرائیل کی ایئرفورس نے بیروت اور جنوبی لبنان کے ساحلی شہر سیدون پر اتوار کو بمباری کی ہے جس میں تین افراد ہلاک اور چودہ زخمی ہوئے ہیں جبکہ ایک مسجد منہدم ہوگئی ہے۔
اس حملے سے قبل سیدون کے لوگ اور دیگر علاقوں سے آنے والے قریباً 42000 پناہ گزین اس شہر کو محفوظ علاقہ سمجھ رہے تھے۔
لبنان پر اسرائیلی حملوں کی بارہ روزہ مہم کے دوران اب تک 350 سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں جن میں سے بیشتر عام شہری تھے اور ان میں سے ایک تہائی تعداد بچوں کی تھی۔ پانچ لاکھ متاثرہ افراد کو امداد کی ضرورت ہے۔
ژاں ایگلینڈ کے مطابق اقوام متحدہ کی جانب سے امدادی سامان اگلے چند دن تک یہاں پہنچنا شروع ہوجائے گا۔ ’تاہم ایسا کرنے کے لیئے ہمیں محفوظ راہداری چاہیئے۔ ابھی تک اسرائیل نے ہمیں اس کی اجازت نہیں دی ہے‘۔
اسرائیل کے آرمی ریڈیو کے مطابق جنوبی لبنان میں زمینی آپریشن میں توسیع کی جارہی ہے جس کے لیئے مزید فوجی تعینات کیئے جائیں گے۔
ادھر اسرائیلی شہر حیفہ پر حزب اللہ کے راکٹ حملے میں دو افراد ہلاک ہوگئےہیں۔
دریں اثناء اسرائیلی وزیر دفاع نے جرمن وزیر خارجہ سے ملاقات کے بعد کہا ہے کہ اسرائیل جنوبی لبنان میں نیٹو فوج کی تعینات پر راضی ہوجائے گا، ’کیونکہ لبنان کی فوج کمزور ہے‘۔ تاہم ان کا اصرار تھا کہ حزب اللہ کے ٹھکانے ختم کرنے تک ان کی موجودہ فوجی کارروائی جاری رہے گی۔
اتوار کے حملوں سے پہلے اسرائیل کی وارننگ کے بعد جنوبی لبنان سے ہزاروں لوگ علاقہ چھوڑ کر جاچکے ہیں۔
اسرائیل کی فوج نے کہا ہے کہ اس نے مارون الراس نامی گاؤں پر مکمل قبضہ کر لیا ہے جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ حزب اللہ کا گڑھ تھا اور وہاں سے اسرائیل پر راکٹ داغے جاتے تھے۔اس کارروائی کے دوران اسرائیل کے چھ فوجی ہلاک ہوئے۔
اسرائیل نے سنیچرکو لبنان کی مواصلات کی تنصیبات کو نشانہ بنایا اور کم از کم دو مقامات پر لبنان ٹی وی سٹیشن اور موبائل فون نیٹ ورک پر بمباری کی۔
![]() | |
| اسرائیلی حملوں سے بچنے کے لیے لوگوں نے سفید جھنڈے اٹھا رکھے تھے |
![]() | |
| اسرائیل میں بائیں بازو کے لوگوں نے لبنان میں اسرائیلی حملہ کو روکنے کے لیے مظاہرہ کیا |
لبنان کے وزیر دفاع نے کہا ہے کہ اگر اسرائیلی فوجیں سرحد کے اندر آتی ہیں تو لبنانی فوج جنگ میں حصہ لے گی۔ ان کا کہنا ہے ’لبنان اپنے آخری فوجی تک اپنی سرزمین کا دفاع کرے گا‘۔
طائر میں عام شہریوں کی تدفین کے لیے بلڈوزر استعمال کیے گئے ہیں۔ لاکھوں لوگ بے گھر ہوچکے ہیں۔