http://bbc.com.im/urdu/

Saturday, 22 July, 2006, 21:42 GMT 02:42 PST

اسرائیل کی بیروت اورسیدون پر بمباری

اسرائیل کی ایئرفورس نے بیروت اور جنوبی لبنان کے ساحلی شہر سیدون پر اتوار کی صبح بمباری کی ہے۔اس سے پہلے اسرائیل کی وارننگ کے بعد جنوبی لبنان سے ہزاروں لوگ علاقہ چھوڑ کر چلے گئے۔

اسرائیل کی فوج نے کہا ہے کہ اس نے مارون الراس نامی گاؤں پر مکمل قبضہ جما لیا ہے جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ حزب اللہ کا گڑھ تھا اور وہاں سے اسرائیل پر راکٹ داغے جاتے تھے۔اس کارروائی کے دوران اسرائیل کے چھ فوجی ہلاک ہوئے۔

اسرائیل کے خلاف عالمی احتجاج، تصاویر
لبنان سے لوگوں کا انخلاء
ا
مشرق وسطیٰ بحران: ضمیمہ
جنوبی لبنان میں بہت سے خاندان گاڑیوں اور ٹرکوں پر سوار ہوکر علاقہ چھوڑ گئے۔نقل مکانی کرنے والوں نے اپنے ہاتھ میں اس امید پر سفید پرچم اٹھا رکھے ہیں کہ شاید یہ انہیں اسرائیلی حملوں سے تحفظ فراہم کرسکیں۔
اسرائیلی حملوں سے بچنے کے لیے لوگوں نے سفید جھنڈے اٹھا رکھے ہیں۔

جمعہ کو اسرائیلی جہازوں سے گرائے جانے والے تحریری پیغام میں عام شہریوں کو خبردار کیا گیا تھا کہ وہ علاقے سے نکل جائیں۔ تاہم عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج نے سنیچر کی صبح ان چند کراسنگز میں سے بچ جانے والی ایک کراسنگ پر حملہ کردیا جو ان کے لیئے علاقے سے باہر جانےکا رستہ تھا۔

اس سے پہلے اسرائیل نے لبنان سنیچرکو لبنان کی مواصلات کی تنصیابات کو نشانہ بنایا۔ اسرائیلی فوج نے کم از کم دو مقامات پر لبنان ٹی وی سٹیشن اور موبائل فون نیٹ ورک پر بمباری کی۔

اسرائیلی فوجی ترجمان ایلی اووٹس نے کہا ہے کہ یہ نیٹ ورکس اسرائیل کے خلاف پروپیگینڈہ کے لیئے استعمال کیئے جاتے ہیں۔

لبنان کی سرحد پر فوج اکھٹی کرنے کے باوجود اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس کا لبنان کے اندر کسی بڑے زمینی حملے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

سنیچر کو اسرائیلی ٹینک، دیگر فوجی اور بلڈوزر سرحدی باڑ توڑ کر لبنان میں داخل ہوگئے تھے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں کی بھی ایک پوسٹ قائم ہے۔

اسرائیل کی گیارہ روزہ بمباری کے نتیجے میں لبنان میں اب تک 348 افراد ہلاک ہوچکے ہیں جن میں زیادہ تعداد شہریوں کی ہے۔ پانچ لاکھ متاثرہ افراد کو امداد کی ضرورت ہے۔

اسرائیل لبنان سرحد پر اقوام متحدہ کی فورس کے 2000 افراد تعینات ہیں۔ سرائیلی فوجی پہلے ہی لبنان کی سرحد عبور کر کے جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے خلاف کارروائی میں مصروف ہیں تاہم اسرائیلی فوج کے سربراہ نے کہا ہے کہ لبنان کی سرحد کے اندر جو کارروائی بھی کی جائے گی اس کا دائرہ محدود ہوگا۔

موجودہ بحران کے حل کے لیے کوشش کی غرض سےامریکہ کی وزیر خارجہ کونڈو لیزا رائس اتوار سے مشرق وسطیٰ کا دورہ شروع کر رہی ہیں۔ جرمنی کے وزیر خارجہ فرینک والٹر بھی مشرق وسطیٰ پہنچ رہے ہیں۔ فرینک والٹر نے سنہ دو ہزار چار میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان قیدیوں کے تبادلے میں بھی مدد کی تھی۔ وہ اسرائیل جانے سے پہلے قاہرہ میں بھی ٹھہریں گے۔

اس کے علاوہ اقوام متحدہ کی امدادی کارروائیوں کے کوآرڈینیٹر یان ایگلینڈ بھی لبنان میں صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے بیروت پہنچ رہے ہیں۔

مشرق وسطیٰ میں موجودہ بحران کا آغاز اس وقت ہوا تھا جب بارہ جولائی کو حزب اللہ نے دو اسرائیلی فوجیوں کو اپنے قبضے میں لے لیا تھا۔ اس کے بعد سے اسرائیل لبنان پر بے شمار فضائی حملے کر چکا ہے جبکہ حزب اللہ نے اسرائیلی شہر حیفہ پر راکٹ پھینکے۔

بیروت سے بی بی سی کے نامہ نگار سٹیوارٹ ہیوز کے مطابق عام خیال یہ ہے کہ اسرائیل لبنان کی جنوبی سرحد کے ساتھ ساتھ ایک ’بفرزون‘ یا غیر فوجی علاقہ بنانا چاہتا ہے تا کہ حزب اللہ وہاں سے اسرائیل کے اندر راکٹ نہ پھینک سکے۔

دریں اثناء لبنان کے سینئر افسران نے کہا ہے کہ اگر اسرائیلی فوجیں سرحد کے اندر آتی ہیں تو لبنانی فوج جنگ میں حصہ لے گی۔ لبنانی افسران نے یہ بیان اس وقت دیا ہے جب عام شہری جنوبی لبنان سے بھاگ رہے ہیں اور طائر میں عام شہریوں کی تدفین کے لیے بلڈوزر استعمال کیے جا رہے تھے۔

جنوبی لبنان کے علاقائی دارالحکومت سیدون کے میئر کا کہنا ہے کہ اٹھائیس ہزار سے زائد لوگ بے گھر ہو چکے ہیں علاقے میں خوراک، ادویات اور سر چھپانے کی جگہ کی قلت ہو رہی ہے اورسیدون کا چھوٹا ساحلی قصبہ بھگر لوگوں کی ضرورتوں کے لیے ناکافی ہو رہا ہے۔