Saturday, 22 July, 2006, 07:14 GMT 12:14 PST
اسرائیلی فوج نے کم از کم دو مقامات پر لبنان ٹی وی سٹیشن اور موبائل فون نیٹ ورک پر بمباری کی ہے۔
ان حملوں میں اسرائیل فوج نے لبنان کے سب سے بڑے سیٹلائیٹ ٹی وی نیٹ ورک ایل بی سی اور بیروت کے شمال مشرق علاقے میں نجی ریڈیو سٹیشنوں کو نشانہ بنایا ہے۔ ٹی وی پر نشر ہونے والے مناظر میں ایل بی سی کی عمارت سے شعلے اور کالے دھویں کے گہرے بادل اٹھتے دکھائی دے رہے ہیں۔
شمالی لبنان میں حزب اللہ کے ٹی وی نیٹ ورک المنار، ایک نجی ٹی وی نیٹ ورک اور موبائل فون کے نیٹ ورک کونشانہ بنایا گیا ہے۔ مواصلات کے نظام پر یہ اسرائیل کے تازہ ترین حملے ہیں۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ جنوب مشرقی لبنان کے سرحدی قصبے خیام پر شیلنگ کی گئی ہے۔
اسرائیلی فوجی ترجمان ایلی اووٹس نے کہا ہے کہ یہ نیٹ ورکس اسرائیل کے خلاف پروپیگینڈہ کے لیئے استعمال کیئے جاتے ہیں۔
دریں اثناء دس اسرائیلی ٹینک، دیگر فوجی اور بلڈوزر سنیچر کو سرحدی باڑ توڑتے ہوئے لبنان میں داخل ہوگئے ہیں۔ یہ وہ مقام ہے جہاں اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں کی بھی ایک پوسٹ قائم ہے۔ یہ ٹینک اس لبنانی گاؤں کی طرف جارہے ہیں جہاں دیگر اسرائیلی فوجی پہلے ہی کنٹرول سنبھال چکے ہیں۔
اسرائیلی فوج نے حزب اللہ کے خلاف جنگ جاری رکھنے کا عہد کیا ہے۔ ساتھ ہی ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ابھی لبنان پر ’بھرپور‘ حملے کا ارادہ نہیں ہے۔
اسرائیل کی گیارہ روزہ بمباری کے نتیجے میں لبنان میں اب تک 348 افراد ہلاک ہوچکے ہیں جن میں زیادہ تعداد شہریوں کی ہے۔ پانچ لاکھ متاثرہ افراد کو امداد کی ضرورت ہے۔
اسرائیل نے زمینی کارروائی کے لیے اپنی فوجیں سرحد پر جمع کر لی ہیں اور تین ہزار ریزرو فوجیوں کو طلب کر لیا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے لبنان پر اسرائیلی حملہ اس تنازع کو ’شدید سنگین‘ کردے گا۔ اسرائیل لبنان سرحد پر اقوام متحدہ کی فورس کے 2000 افراد تعینات ہیں۔
جنوبی لبنان میں بہت سے خاندان گاڑیوں اور ٹرکوں پر سوار ہوکر علاقہ چھوڑ رہے ہیں۔ ان لوگوں نے اپنے ہاتھوں میں اس امید پر سفید پرچم اٹھا رکھے ہیں کہ شاید یہ انہیں اسرائیلی حملوں سے تحفظ فراہم کرسکیں۔ جمعہ کو اسرائیلی جہازوں سے گرائے جانے والے تحریری پیغام میں عام شہریوں کو خبردار کیا گیا تھا کہ وہ علاقے سے نکل جائیں۔ تاہم عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج نے سنیچر کی صبح ان چند کراسنگز میں سے بچ جانے والی ایک کراسنگ پر حملہ کردیا جو ان کے لیئے علاقے سے باہر جانےکا رستہ تھا۔
![]() | |
| بے شمار عمارتیں اب محض ملبے کا ڈھیر بن چکی ہیں |
اس کے علاوہ اقوام متحدہ کی امدادی کارروائیوں کے کوآرڈینیٹر یان ایگلینڈ بھی لبنان میں صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے بیروت پہنچ رہے ہیں۔
مشرق وسطیٰ میں موجودہ بحران کا آغاز اس وقت ہوا تھا جب بارہ جولائی کو حزب اللہ نے دو اسرائیلی فوجیوں کو اپنے قبضے میں لے لیا تھا۔ اس کے بعد سے اسرائیل لبنان پر بے شمار فضائی حملے کر چکا ہے جبکہ حزب اللہ نے اسرائیلی شہر حیفہ پر راکٹ پھینکے۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ حزب اللہ کے ایسے مورچوں اور سرنگوں کو تباہ کرنے کی غرض سے سرحد پار کارروائیاں جاری رہیں گی جنہیں فضا سے تباہ نہیں کیا جا سکتا۔ اس سلسلے میں ایک سینئر اسرائیلی جنرل کہا کہ یہ کارروائی ہفتوں جاری رہ سکتی ہے۔
بیروت سے بی بی سی کے نامہ نگار سٹیوارٹ ہیوز کے مطابق عام خیال یہ ہے کہ اسرائیل لبنان کی جنوبی سرحد کے ساتھ ساتھ ایک ’بفرزون‘ یا غیر فوجی علاقہ بنانا چاہتا ہے تا کہ حزب اللہ وہاں سے اسرائیل کے اندر راکٹ نہ پھینک سکے۔
![]() | |
| اسرائیل کا کہنا ہے کہ ابھی لبنان پر ’بھرپور‘ حملے کا ارادہ نہیں ہے |
جنوبی لبنان کے علاقائی دارالحکومت سیدون کے میئر کا کہنا ہے کہ اٹھائیس ہزار سے زائد لوگ بے گھر ہو چکے ہیں علاقے میں خوراک، ادویات اور سر چھپانے کی جگہ کی قلت ہو رہی ہے اورسیدون کا چھوٹا ساحلی قصبہ بھگر لوگوں کی ضرورتوں کے لیے ناکافی ہو رہا ہے۔
شمالی اسرائیل میں حیفہ پر حزب اللہ کے تازہ ترین راکٹ حملوں میں تین افراد معمولی زخمی ہوئے ہیں۔
گزشتہ دس دن میں چونتیس اسرائیلی ہلاک ہو چکے ہیں جن میں پندہ عام شہری شامل ہیں۔