http://bbc.com.im/urdu/

Saturday, 22 July, 2006, 19:30 GMT 00:30 PST

’حزب اللہ، ایران، شام ذمہ دار ہیں‘

صدر بش نے لبنان میں موجودہ لڑائی کے لیے حزب اللہ اور اس کے ’غیر ملکی حمایت کاروں‘ پر دوبارہ الزام لگایا ہے۔

اپنے ہفتہ وار ریڈیو خطاب میں صدر بش نے کہا ہے کہ شام اور ایران حزب اللہ کی مدد کر رہے ہیں اور ان کے اس عمل سے مشرق وسطیٰ کا امن خطرے میں پڑ گیا ہے۔

انہوں نے حزب اللہ کا حوالہ دیتے ہوے کہا کہ لڑائی ا ُسی وقت ختم ہو سکتی ہے جب اس ’دہشت گرد گروپ‘ کا مقابلہ کیا جائے جس نے یہ لڑائی شروع کی ہے اور ان ملکوں کا جو اس گروپ کا ساتھ دے رہے ہیں۔

سعودی عرب خطے میں امریکہ کا اہم حلیف ہے اور پہلے ہی حزب اللہ کے حملوں کے مذمت کر چکا ہے جن کی وجہ سے اس لڑائی کا آغاز ہوا ہے۔ اس کے بعد کونڈو لیزا رائس مشرق وسطیٰ روانہ ہوں گی جہاں وہ اسرائیلی وزیر اعظم الیہود اولمرت اور فلسطینی رہنما محمد عباس سے ملاقات کریں گی۔

وہ پرُ امید ہیں کہ وہ اسرائیل کو اس بات پر رضا مند کرلیں گی کہ لبنبانی شہریوں کو کم سے کم نشانہ بنایا جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ لبنانی پناہ گزینوں تک امداد پہنچ سکے۔ لیکن اس وقت اسرائیل کو فائر بندی کے لیے رضامند کرنا ان کے ایجنڈے کا حصہ نہیں ہے۔

اسی دوران ایران کے فوجی سربراہ میجر جنرل حسن فیروزآبادی نے حزب اللہ کی سیاسی اور سفارتی مدد کا وعدہ کیا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ ایرانی فوج لبنان میں فوجی کاروائی نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کا یہ حملہ امریکہ اور برطانیہ کے منصوبے کا حصہ ہے جس کا مقصد مشرق وسطیٰ سے مغربی ملکوں کو تیل کی فراہمی جاری رہے۔