http://bbc.com.im/urdu/

Friday, 21 July, 2006, 18:02 GMT 23:02 PST

رائس مڈل ایسٹ کا دورہ کریں گی

امریکی وزیر خارجہ کونڈو لیزا رائس نے اگلے ہفتے مشرق وسطی کا دورہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے یہ اعلان سیکرٹری جنرل کوفی عنان سے نیویارک میں ایک ملاقات کے بعد کیا ہے۔

خصوصی ضمیمہ: لبنان پر اسرائیلی حملے

لبنان اور اسرائیل تنازعے کے پس منظر میں ان کے اس اعلان سے یہ تاثر ابھرا ہے اور یہ امید بھی پیدا ہوئی ہے کہ تنازعے کے سفارتی حل کی کوششیں اب سنجیدہ دور میں داخل ہو گئی ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ کے مشرق وسطی کے دورے کےاعلان کے باوجود امریکی موقف میں کوئی لچک نہیں آئی ہے۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ وہ اسرائیل پر حملے بند کرنے کے سلسلے میں کوئی دباؤ نہیں ڈالے گا۔

امریکہ اسرائیل کے اس موقف کو مکمل طور پر تسلیم کرتا ہے کہ حزب اللہ کے خطرے کو ہٹائے بغیر امن کی بات ناقابل قبول ہے۔

اقوام متحدہ میں اسرائیل کے نمائندے ڈین گلر مین نے حزب اللہ کو ایک ناسور سے تشبہ دیتے ہوئے کہا کہ حزب اللہ کو من مانی کی اجازت نہیں دی جا سکتی اور جس طرح کینسر کو جسم سے کاٹ پھینکتے ہیں اسی طرح حزب اللہ کو بھی کاٹ پھینکنا ضروری ہے کیونکہ اگر اسے اسی طرح ہی چھوڑ دیا گیا تو یہ پھیلنے کے ساتھ حملے کرکے لوگوں کو قتل کر ےگا۔

اقوام متحدہ کی جانب سے لبنان میں انسانی مصائب کے بحران کی صورت حال کے بارے میں انتباہ کے بعد اسرائیل نے اعلان کیا ہے کہ وہ جنوبی لبنان کے علاقوں میں امدادی اشیاء فراہم کرنے والی گاڑیوں کو تحفظ فراہم کرے گا۔

لبنانی وفد انتہائی دباؤ کا شکار ہے اور اپنے ملک پر اسرائیلی بمباری اور بین الاقوامی برادری کی خاموشی نے انہیں مایوسی کے اندھیروں میں دھکیل دیا ہے۔

دوسری طرف فرانس نے لبنان اسرائیل تنازعے کے حل کے لیئے سفارتی کوششیں تیز کردی ہیں۔ فرانس کے وزیر خارجہ ان دنوں بیروت میں ہیں۔

اس سے قبل صدر شیراک نے بھی اس تنازعے کے حل کے لیئے یورپی یونین کے پالیسی چیف کو بطور خصوصی ایلچی نامزد کرنے کی درخواست کی ہے اور دونوں اطراف سے صلح یا عارضی جنگ بندی کی اپیل کی ہے۔

گزشتہ ہفتے فرانس کے وزیراعظم بھی لبنان کے عوام سے اظہار یک جہتی کے لیئے بیروت میں تھے۔