Friday, 21 July, 2006, 03:24 GMT 08:24 PST
لبنان کی حزب اللہ ملیشیا کے سربراہ نصر اللہ نے کہا ہے کہ مقید اسرائیلی فوجیوں کو صرف قیدیوں کے تبادلے میں ہی رہائی مل سکتی ہے۔
عرب ٹیلی ویژن چینل الجزیرہ کو دیئے گئے انٹرویو میں نصر اللہ نے کہا کہ دنیا کی کوئی طاقت ان دو اسرائیلی فوجیوں کو رہا نہیں کر سکتی جو ان کی قبضے میں ہیں۔
دونوں طرف سے زیادہ تر عام شہری ہلاک ہوئے ہیں۔ اسرائیلی حملوں میں پانچ لاکھ کے قریب افراد بےگھر بھی ہو گئے ہیں۔
حزب اللہ کے سربراہ نے اسرائیل کے ان دعوؤں کو رد کر دیا جن کے مطابق حزب اللہ کی آدھی قیادت کو ہلاک کیا جا چکا ہے۔
بدھ کی رات کو اسرائیلی طیاروں نے جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے رہنماؤں کی پناہ گاہ قرار پر تئیس ٹن وزنی بم گرانے کے بعد دعویٰ کیا تھا کہ حزب اللہ کا ہیڈکواٹر تباہ کر دیا گیا ہے اور اس کی آدھی قیادت بھی ختم ہو گئی ہے۔
![]() | |
| اسرائیلی فوجی لبنان پر گولے برسانے سے قبل تورات پڑھ رہے ہیں |
کوفی عنان نےلبنان کو بحرانی کیفیت میں مبتلا کرنے حزب اللہ کی مذمت کی لیکن انہوں نے اسرئیل کو بھی ضرورت سے زیادہ طاقت کا استعمال کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا۔
کوفی عنان نے کہا جنگ بندی کی غیر موجودگی میں امداد پہنچانے کے راستے کھلے رہنا ضروری ہیں۔
اسرائیل نے لبنان میں امداد پہنچانے کے راستے کھلنے رکھنے سے اتفاق کیا ہے۔
کوفی عنان نے کہا کہ جنگ بندی کر کے سفارت کاری کو موقع دیا جانا چاہیے تاکہ وہ بحران کا کوئی پرامن حل نکالا جا سکے۔
اسرائیل نے ان اطلاعات کی تصدیق کی ہے کہ اس کے دو ہیلی کاپٹر لبنان میں گر کر تباہ ہو گئے ہیں۔ اسرائیل نے کہا کہ دونوں ہیلی کاپٹر اتفاقیہ طور پر آپس میں ٹکرا گئے تھے اور وہ کسی جوابی کارروائی کا نشانہ نہیں بنے۔ اس دوران دو اسرائیلی فوجی بھی ہلاک ہوئے ہیں۔
ادھر غزہ سے موصول ہونے اطلاعات کے مطابق اسرائیل کے فوجی غزہ کے علاقے مغزی سے واپس جانا شروع ہو گئے ہیں جہاں انہوں ایک دن میں تیرہ فلسطینوں کو ہلاک کر دیا تھا۔
لبنان کے وزیر اعظم فواد سینیورا ائے نے اسرائیل اور حزب اللہ سے فوری جنگ بندی کی اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ اسرائیل قتلِ عام کر رہا ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کا ملک ٹکڑے ٹکڑے کردیا گیا ہے۔
اقوام متحدہ کے مطابق لبنان میں انسانی المیے میں ہر گزرتے ہوئے گھنٹے کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے اور زخمیوں کے لیئے طبی امداد پہنچانا ناممکن ہے کیونکہ اسرائیلی حملوں سے سڑکیں اور پل تباہ ہوچکے ہیں۔
![]() | |
| اسرائیل کی بمباری سے لبنان تباہی کا ایک منظر پیش کر رہا ہے |
دریں اثناء زبردست بمباری کے دوران غیر ملکیوں کو لبنان سے نکالے جانے کا سلسلہ جاری ہے۔ برطانیہ، امریکہ، بھارت اور ناروے کے بحری جہاز اپنے شہریوں کو لبنان سے نکال کر لے جا رہے ہیں۔
امریکہ اسرائیل کی مکمل حمایت کر رہا ہے۔ اقوام متحدہ میں امریکہ کے سفیر جان بولٹن کہا ہے کہ یہ خیال کہ جنگ بندی سے مسئلہ حل ہو جائے گا، درست نہیں ہے۔ انہوں نے کہا: ’ کیا کوئی اس بات پر روشنی ڈالے گا کہ ایک دہشت گرد تنظیم کے ساتھ جنگ بندی کیسے کی جائے۔ مجھے کوئی بتائے کہ کب ماضی میں کسی ملک اور کسی دہشت گرد تنظیم کے درمیان جنگ بندی ہوئی تھی۔ یہ مختلف حالات ہیں اور ان میں روایتی سوچ کام نہیں کرے گی۔‘
اسرائیل کے نائب وزیر اعظم شمعون پیریز کا کہنا ہے کہ مسئلہ یہ ہے کہ حزب اللہ نےگھروں میں میزائل چھپا رکھے ہیں۔’ ہم ان سے کہہ رہے ہیں کہ یا تو میزائل پھینک دو، یا گھر چھوڑ دو، ہم بیٹھ کر ان میزائلوں کو اسرائیل پر داغے جانے کا انتظار نہیں کر سکتے۔‘
یورپی یونین نے گزشتہ روز کے حملوں کو ’غیر متناسب‘ قرار دیتے ہوئے اسرائیلی کارروائی کی مذمت کی ہے۔