Thursday, 20 July, 2006, 01:43 GMT 06:43 PST
اسرائیل کے فوجی ذرائع کے مطابق لبنان کی سرحد کے اندر حزب اللہ اور اسرائیلی فوجیوں میں جھڑپ جاری ہے۔ امدادی اداروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یہ تنازع تباہ کن انسانی المیہ میں تبدیل ہوسکتا ہے۔
لبنان کے وزیر اعظم فواد سینیورا ائے نے اسرائیل اور حزب اللہ سے فوری جنگ بندی کی اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ ان کا ملک ٹکڑے ٹکڑے کردیا گیا ہے۔
گزشتہ ہفتے کے دوران اسرائیلی حملوں میں تین سو سے زیادہ افراد ہلاک اور پچاس ہزار بے گھر ہو گئے ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق لبنان میں انسانی المیے میں ہر گزرتے ہوئے گھنٹے کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے اور زخمیوں کے لیئے طبی امداد پہنچانا ناممکن ہے کیونکہ اسرائیلی حملوں سے سڑکیں اور پل تباہ ہوچکے ہیں۔
بدھ کو لبنان میں اب تک کی بدترین خونریزی کے بعد جس میں پچپن عام لبنانی ہلاک ہوئے، اسرائیلی فضائیہ نے جمعرات کی صبح لبنان پر 80 نئے حملے کیئے ہیں۔
اسرائیل کا کہنا ہے کہ لبنان کی سرحد کے اندر حزب اللہ کے عسکریت پسندوں اور اسرائیلی فوجیوں میں جھڑپ جاری ہے۔ ایک اسرائیلی ترجمان کے مطابق ایک اسرائیلی گاؤں اویوم کے شمال میں بھی لڑائی جاری ہے۔
اس سے قبل بدھ کی نصف شب کواسرائیلی طیاروں نےحزب اللہ کے رہنماؤں کی پناہ گاہ قرار پر تئیس ٹن وزنی بم گرائے۔ تاہم حزب اللہ کے ٹیلی وژن کا دعوٰی ہے کہ تنظیم کا کوئی بھی رہنما ہلاک نہیں ہوا اور اسرائیلی بم ایک خالی مسجد پر گرے۔
![]() | |
دریں اثناء زبردست بمباری کے دوران غیر ملکیوں کو لبنان سے نکالنے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔ برطانیہ، امریکہ اور ناروے کے ایک ہزار سے قریب شہریوں کو بحری جہاز کے ذریعے قبرص پہنچا دیا گیا ہے۔ تاہم اب بھی سینکڑوں غیر ملکی باشندے لبنان میں پھنسے ہوئے ہیں کیونکہ اسرائیل نے ساحلی علاقے کی ناکہ بندی کر رکھی ہے۔
![]() | |
لبنانی وزیرِ اعظم کی جانب سےامن کی اپیل تازہ اسرائیلی حملوں کے بعد آئی جس میں کم سے کم پچاس لبنانی شہری ہلاک ہوئے۔ ملک کے جنوب میں حزب اللہ چھاپہ ماروں اور اسرائیلی بری فوج کے درمیان بھی گھمسان کی لڑائی ہوئی جس میں دو اسرائیلی فوجیوں مارے گئے۔
اقوام متحدہ میں امریکہ کے سفیر جان بولٹن کہا ہے کہ یہ خیال کہ جنگ بندی سے مسئلہ حل ہو جائے گا، درست نہیں ہے۔ انہوں نے کہا: ’ کیا کوئی اس بات پر روشنی ڈالے گا کہ ایک دہشت گرد تنظیم کے ساتھ جنگ بندی کیسے کی جائے۔ مجھے کوئی بتائے کہ کب ماضی میں کسی ملک اور کسی دہشت گرد تنظیم کے درمیان جنگ بندی ہوئی تھی۔ یہ مختلف حالات ہیں اور ان میں روایتی سوچ کام نہیں کرے گی۔‘
یورپی یونین نے گزشتہ روز کے حملوں کو ’غیر متناسب‘ قرار دیتے ہوئے اسرائیلی کارروائی کی مذمت کی ہے۔
اب تک لبنان پر اسرائیلی حملوں میں کم از کم 300 سے زائد لبنانی افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں سے بیشتر عام شہری ہیں۔ دوسری جانب حزب اللہ کے راکٹ حملوں میں 25 اسرائیلی ہلاک ہوئے ہیں جن میں سے تیرہ عام شہری ہیں۔
حزب اللہ کے راکٹ حملوں میں اسرائیل کے شمالی شہر حیفہ کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ بدھ کے راکٹ حملوں میں چند لوگ زخمی ہوئے۔اسرائیل کے تازہ حملے دارالحکومت بیروت اور ملک کے مشرقی اور جنوبی حصوں میں حزب اللہ کے ٹھکانوں پر کیے جارہے ہیں۔
اقوام متحدہ کی ٹیم جو چند روز سے علاقے میں تھی اب واپس نیویارک جارہی ہے تاکہ سیکرٹری جنرل کوفی عنان کو صورتحال پر بریفنگ دے سکے۔ کوفی عنان آج سکیورٹی کونسل سے خطاب کریں گے۔