Thursday, 20 July, 2006, 08:02 GMT 13:02 PST
لندن کے مشرقی حصے میں رہنے والی بنگلہ دیشی کمیونٹی مونیکا علی کے ناول ’بِرک لین‘ پر بنائے جانے والی فلم سے ناخوش ہے۔
ان کا دعویٰ ہے کہ اس ناول میں شورڈچ کے علاقے بِرک لین میں رہائش پذیر بنگلہ دیشی کمیونٹی کی توہین کی گئی ہے۔
روبی فلمز نامی کمپنی اس ناول پر فلم بنا رہی ہے جو ایک ایسی بنگلہ دیشی خاتون کی کہانی ہے جو شادی کے بعد بنگلہ دیش کے ایک گاؤں سے لندن کے مشرقی علاقہ بِرک لین میں رہنے آتی ہے۔ یہ وہ علاقہ ہے جہاں بنگلہ دیشی تارکین وطن کی بڑی تعداد آباد ہے اور غربت اور دیگر مسائل عام ہیں۔
برک لین بزنس ایسوسی ایشن کے چئرمین محمود روگ کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیشی کمیونٹی کو امید ہے کہ کمپنی اس ناول پر فلم بنانے کا کام ترک کردے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ اس مسئلے پر کمیونٹی کے اراکین کا ایک اجلاس ہوا تھا اور کمیونٹی کی منشاء سے ہی آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ کتاب ادبی حوالے سے ایک اچھا کام ہے لیکن اس میں کمیونٹی کی تذلیل کی گئی ہے۔ مونیکا علی بنگلہ دیشی کمیونٹی سےتعلق نہیں رکھتی ہیں اوران کا ناول مفروضوں پر مبنی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ لوگ اس کتاب پر بنائی جانے والی فلم پر ناخوش ہیں۔ اگرچہ یہاں کی انتظامیہ نے فلم بنانے والی کمپنی کو فلم بندی کی اجازت تو دے دی ہے مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ انہیں کمیونٹی نے بھی فلم بندی کی اجازت دے دی ہے۔
![]() | |
| مونیکا علی کے ناول بِرک لین کا سرورق |
روبی فلمز نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ برک لین میں فلم بندی کے دوران کمپنی نے مسلسل کمیونٹی کے اراکین سے رابطہ رکھا اور ان میں سے بعض نے تو فلم میں بطور کنسلٹنٹ کے کام بھی کیا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ فلم کی تکمیل کے بعد اس بارے میں لوگوں کے خدشات دور کرنے کے لئیے ان سے بات کی جائے گی۔
مقامی کونسل ٹاور ہیملیٹ کا کہنا ہے کہ وہ اس فلم کے بارے میں لوگوں کے خدشات معلوم کرے گی۔ اس کا مزید کہنا تھا کہ اسے نجی ملکیت میں واقع جگہ پر فلم بندی کو روکنے کے مکمل اختیارات حاصل نہیں۔
برک لین مونیکا علی کا پہلا ناول ہے اور اسے دو ہزار تین میں ’’بُکر پرائز‘ کے لیئے بھی شارٹ لسٹ کیا گیا تھا۔
دسمبر دو ہزار تین میں اس ناول کوگریٹر سیلہٹ ڈویلپمنٹ اور ویلفیر کونسل کی بنگلہ دیشی کمیونٹی کے رہنماؤں نے ’اخلاقی تذلیل‘ قرار دیا تھا۔