http://bbc.com.im/urdu/

Wednesday, 19 July, 2006, 06:58 GMT 11:58 PST

سونامی ہلاکتیں 520 تک جاپہنچیں

انڈونیشیا میں جاوا کے جنوب مشرقی ساحل پر زلزلے اور سونامی میں ہلاکتوں کی تعداد 520 تک جاپہنچی ہے اور امدادی ٹیمیں اب بھی ملبے تلے دبی لاشیں نکال رہی ہیں۔

پیر کی تباہی کے بعد پچھلے سال نصب کیئے گئے وارننگ سسٹم کے بارے میں سوالات اٹھائے جارہے ہیں کہ وہ ناکام کیوں ہوا۔

’ارلی وارننگ سسٹم‘ ناکام کیوں ہوا؟

حکام کا کہنا ہے کہ انہیں وارننگ مل گئی تھی کہ جاوا کے جزیرے پر سونامی کا خدشہ ہے تاہم وہ اسے آگے لوگوں تک نہیں پہنچا سکے۔

ایک عینی شاہد کا کہنا ہے کہ ’میں نے بہت بڑی سمندری لہریں دیکھیں جنہوں نے ساحل سے دور کھڑی گاڑیوں تک کو سمندر میں کھینچ لیا۔‘ سونامی میں بہت سے لوگ زخمی ہوئے ہیں اور درجنوں اب بھی لاپتہ ہیں۔

زلزلے کی وجہ سے دو دو میٹر اونچی لہریں اٹھیں جن سے پنجندرن کا علاقہ سب سے زیادہ متاثر ہوا۔ زلزلے کی قوت ریکٹر سکیل پر سات اعشاریہ دو تھی اور یہ مقامی وقت کے مطابق سوا تین بجے سہ پہر آیا تھا۔
ایشیا کے سونامی نظام نے گزشتہ ماہ کام شروع کیا ہے

امریکی اور جاپانی ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے آسٹریلیا اور انڈونیشیا کو سونامی کے ممکنہ خدشہ سے آگاہ کردیا تھا تاہم انڈونیشیا کے حکام کاکہنا ہے کہ وہ ساحلوں پر واقع آبادیوں تک یہ پیغام نہ پہنچا سکے۔

حکام کا کہنا ہے کہ ان کے پاس ایسا کوئی منظم نظام نہیں ہے جس کے ذریعے وہ لوگوں تک کوئی پیغام پہنچا سکیں۔ جکارتہ میں ریڈ کراس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ حکام کو یہ وارننگ بہت دیر میں ملی۔ اس وقت تک کچھ بھی کرنے کے لیئے بہت دیر ہوچکی تھی۔

انڈونیشیا کے نائب صدر نے کہا ہے کہ وہ اگلے تین سال تک سونامی سے مطلع کرنے والا موثر ’ارلی وارننگ سسٹم‘ بنالیں گے۔

جاوا کے ساحل کے قریب بسنے والے اب بھی خوفزدہ ہیں اور کئی تو مزید سونامی کی افواہوں کے باعث اونچے مقامات پر منتقل ہورہے ہیں۔

سونامی کے باعث ہلاکتوں کے علاوہ پچاس ہزار افراد بےگھر ہوگئے ہیں۔ یہ لوگ یا تو خیموں میں رہ رہے ہیں یا کھلے آسمان تلے یا پھر مسجدوں میں۔

بچ جانے والے افراد کا کہنا ہے کہ اس واقعہ نے 2004 کے تباہ کن سونامی کی خوفناک یادیں تازہ کردی ہیں جس میں ایک لاکھ تیس ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔