Wednesday, 19 July, 2006, 02:09 GMT 07:09 PST
اسرائیلی فوجیں ایک بار پھر غزہ کے وسطی علاقے میں داخل ہو گئی ہیں جہاں فلسطینی مزاحمت کاروں سے ان کی جھڑپیں ہوئی ہیں۔
ادھر غزہ اور مصر کے درمیان سرحد یورپی اتحاد کے نگرانوں کی موجودگی میں تین ہفتے میں پہلی مرتبہ کھولی گئی ہے۔
فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج کی غزہ میں آمد کے بعد ہونے والی جھڑپوں میں ایک شخص زخمی ہوگیا ہے۔
ادھر شمالی غزہ میں بیت حنون کے میئر کا کہنا ہے کہ اسرائیلیوں نے دو دن کی دراندازی کے دوران مکانوں، زرعی زمینوں ، پانی اور بجلی کے نظام کو تباہ کرکے اندازاً سات ملین ڈالر کا نقصان کیا ہے۔
اسرائیلی فوج نے پیر کو یہ علاقہ خالی کیا تھا۔ فلسطینی طبی عملے نے بتایا ہے کہ دو دن میں کم سے کم چھ فلسطینی ہلاک ہوئے۔
ادھر جنوبی غزہ میں مصر سے ملنے والی واحد سرحد تھوڑی دیر کے لۓ کھلی تو ہزاروں کی تعداد میں فلسطینی مصر سے غزہ کی طرف دوڑ پڑے ۔
تین ہفتوں میں جب یہ سرحد پہلی مرتبہ کھلی تو ہزاروں کی تعداد میں فلسطینیوں نے پار جانے کے لیئے دوڑنا شروع کر دیا۔ یورپی اتحاد کے نگرانوں کا کہنا ہے کہ یہ سرحد گیارہ گھنٹے تک کھلی رہے گی۔
پچیس جون کو جب فلسطینی شدت پسندوں نے اسرائیلی فوجی کو قبضے میں لے لیا تھا، رفاہ کی کراسنگ بند ہے۔
ایک فلسطینی طالبِ علم القیاسی نے جن کی عمر اکیس سال ہے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا کہ وہ سعودی عرب کے لیئے اپنے ویزے کی تجدید کرانے کے لیئے مصر گئی تھیں لیکن صورتِ حال بدل گئی اور ان کے پاس پیسے ختم ہوگئے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ انہیں کھلے آسمان تلے سونا پڑا۔
بتایا گیا ہے کہ سرحد کے کھلنے کا انتظار کرنے والے بے شمار لوگوں میں سے جو سرحد کے قریب کھڑے رہے تھے، کئی افراد گرمی کے سبب ہلاک ہوگئے ہیں۔