Tuesday, 18 July, 2006, 03:13 GMT 08:13 PST
جنوبی افغانستان میں برطانوی فوج نے بتایا ہے کہ ان اطلاعات کی تحقیق کی جارہی ہے کہ طالبان نے صوبہ ہلمند کے قصبے نوا پر قبضہ کرلیا ہے۔
یہ قصبہ صوبے کے سب سے بڑے شہر لشکر گاہ سے صرف چند میل کے فاصلے پر واقع ہے۔
اس سے پہلے صوبے کی پولیس کے سربراہ نے تسلیم کیا تھا کہ ایک اور علاقے گرم سیر میں طالبان نے ایک سرکاری عمارت کے کمپاؤنڈ پر دھاوا بول دیا ہے۔
ان واقعات سے قبل لشکر گاہ میں بم کا دھماکہ ہوا تھا جس میں تین افراد ہلاک ہوگۓ۔
بتایا جاتا ہے کہ طالبان فوجی ہلمند کے ایک دوسرے قصبے
اسی دوران اروزگان صوبے کے قریب جھڑپ میں اتحادی فوج کا ایک رکن مارا گیا ہے۔
ترن کوٹ کے ضلع میں جو افغانستان کے جنوبی صوبے میں واقع ہے گیارہ اتحادی فوجی شدید جھڑپوں میں زخمی بھی ہوئے ہیں۔
امریکی سالاری میں اتحادی فوج نے کہا ہے کہ انہوں نے خوست کے مشرقی صوبے میں القاعدہ کے چار مشتبہ شدت پسندوں کو ہلاک کردیا۔ تاہم مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ مرنے والے القاعدہ کے شدت پسند نہیں بلکہ عام لوگ تھے۔
ایک مقامی پولیس اہلکار نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا کہ بڑی تعداد میں طالبان شدت پسند نوائے برکزئی میں پیر کو داخل ہوئے اور وہاں موجود پولیس سے ان کی جھڑپیں کچھ دیر جاری رہیں جس کے بعد پولیس فرار ہوگئی۔
مقامی پولیس نے یہ بھی کہا ہے کہ طالبان نے حکومتی مرکز پر قبضہ کر لیا ہے اور قصبے کا کنٹرول اپنے ہاتھوں میں لے لیا ہے۔
اتوار کو ہلمند میں پولیس کے سربراہ نے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ طالبان شدت پسندوں نے پاکستان کی سرحد سے ملحق گرم شیر پر قبضہ کر لیا تھا۔
اتحادی فوج کے ترجمان میجر سکاٹ لانڈی نے بتایا: ’ہم نے سنا ہے کہ ہلمند کے جنوب میں دو قصبوں پر طالبان شدت پسند قابض ہوگئے ہیں اور ہم بہت سے افراد سے رابطے میں ہیں تاکہ صحیح صورتِ حال واضح ہو سکے۔‘