Tuesday, 18 July, 2006, 06:03 GMT 11:03 PST
عراقی پولیس کے مطابق ملک کے جنوبی شہر کوفہ میں مزدوروں کے ایک ہجوم پر ہونے والے بم حملے میں کم از کم ترپّن افراد ہلاک اور ایک سو تین زخمی ہوگئے۔
جب یہ دھماکہ ہوا تو مزدور مسجدِ کوفہ کے نزدیک کام کی تلاش میں ایک منی بس کے گرد جمع تھے۔
حکام کے مطابق یہ حملہ مقامی وقت کے مطابق صبح ساڑھے سات بجے ہوا اور حملہ آور نے بغداد سے سو میل کے فاصلے پر واقع اس شہر کے مرکز میں جمع ہونے والے مزدوروں کو نشانہ بنایا۔
اس دھماکے میں اپنے بھائی کو کھونے والے اور خود زخمی ہونے والے عراقی ناصر خادم نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ’ایک گاڑی رکی اور درجنوں مزدور کام کی امید میں اس کے گرد جمع ہوگئے۔چند منٹ بعددھماکہ ہوا اور سب کچھ ہوا میں اچھل گیا‘۔ کچھ اطلاعات کے مطابق منی بس میں مزدوروں کو سوار کر لیا گیا اور اس کے بعد بس میں دھماکہ ہوا۔
خبر رساں ادارے رائٹر نے ایک عینی شاہد کے حوالے سے بتایا ہے کہ عراقی پولیس جب دھماکے کی جگہ پر پہنچی تو مشتعل ہجوم نے اس پر پتھراؤ کیا جس پر پولیس نے لوگوں کو منتشر کر نے کے لیئے ہوائی فائرنگ کی۔
عینی شاہد کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس فائرنگ سے دو افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ اس کا کہنا تھا کہ’ وہاں بہت افراتفری تھی۔ پولیس ہوائی فائرنگ کر رہی تھی اور ہجوم ادھر ادھر بھاگ رہا تھا‘۔
یہ بم حملہ محمودیہ میں ایک بازار میں فائرنگ اور مارٹرحملوں کے ایک دن بعد ہوا ہے۔ محمودیہ کے واقعے میں اڑتالیس افراد مارے گئے تھے اور ساٹھ زخمی ہوئے تھے۔
کوفہ بم حملے میں مرنے والوں میں سے زیادہ تر افراد اہلِ تشیع تھے۔ کوفہ شیعہ رہنما متقدی الصدر کا اہم مرکز ہے۔ عراقی سنّی مقتدی الصدر کی مہدی ملیشیا پر فرقہ وارانہ حملوں میں ملوث ہونے کے الزامات لگاتے رہے ہیں۔