Monday, 17 July, 2006, 15:15 GMT 20:15 PST
اکتیس سالہ ابو محمد کی اہلیہ اور چھ بچے جائے پناہ کی تلاش میں گھر سے نکلے تو ان کے کان اسرائیلی گولوں کے دھماکوں کو گونج سے بھرے ہوئے تھے۔
محمد کا کہنا ہے کہ ’فی الحال تو یہ پناہ بھی غنیمت ہے لیکن ہمیں توقع ہے کہ کہ یہ حالات عارضی ثابت ہوں گے‘۔
لبنان پر اسرائیل بمباری شروع ہونے کے بعد اب تک ہزاروں لبنانی شہری اور غیر ملکی ملک چھوڑ کر جا چکے ہیں۔
شہروں میں رہنے والے کچھ لوگ بمباری سے بچنے کے لیئے اپنے اُن عزیزوں اور رشتے داروں کے پاس جا رہے ہیں جو پہاڑوں میں رہتے ہیں لیکن محمد کے خاندان جیسے لوگوں کے پاس بیروت سے نکلنے اور پارکوں جیسے مقامات پر رہنے کے سوا رہنے کی کوئی جگہ نہیں ہے۔
![]() | |
| بیروت کے نواح میں رہنے والے شہری محمد کا خاندان جو اب ایک پارک میں مقیم ہے |
بیروت کے نواحی علاقے حزب اللہ کے گڑھ تصور کیئے جاتے ہیں اور اور ان علاقوں کے رہنے والوں کو شدت پسند تنظیموں کا حامی سمجھا جاتا ہے ان لوگوں کی اکثریت افلاس زدگان پر مشتمل ہے۔
اسرائیل نے اس علاقوں میں طیاروں کے ذریعے ایسے لیف لٹس یا ورقچے گرائے ہیں جن میں ان علاقوں کے رہنے والوں سے کہا گیا ہے کہ وہ ان علاقوں کو خالی کر دیں۔
اسرائیل نے ایسے علاقوں پر بھی ہزاروں بم گرائے ہیں جن کے بارے میں اس نوع کا کوئی عذر پیش نہیں کیا جا سکتا کہ وہاں شدت پسندوں کے حامی رہتے ہیں۔
صنیعہ پارک میں ایک سرخ بچھؤنے پر بیٹھے محمد کا کہنا تھا کہ ’بچے چیخ چلا رہے تھے اور میں انہیں وہاں سے نکالنا چاہتا تھا۔ میں اس پر خوش ہوں کہ ہم یہاں پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔ جب اندھیرا ہو جاتا ہے تو سب سو جاتے ہیں اس کے بعد اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ کہاں ہیں‘۔
مقامی لبنانی رضا کار اس طرح پناہ لینے والے خاندانوں کو اوڑھنے بچھونے اور کھانے پینے کی اشیاء فراہم کرتے ہیں۔
![]() | |
| اسرائیلی بمباری کی وجہ سے سینکڑوں خاندان گھر بار چھوڑ کر پارکوں میں مقیم ہیں اور لوگوں کی دی ہوئی اشیاء پر گزر بسر کر رہے ہیں |
محمد کا کہنا ہے کہ سرحد پار حزب اللہ چھاپوں کی کارروائیوں نے بھی حالیہ بحران کو سنگین بنایا ہے اور اسی بنا پر اسے اپنا گھر بھی چھوڑنا پڑا لیکن وہ شدت پسندوں کی کارروائیوں کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔
اس کہنا ہے کہ ’جب کوئی آپ کو ایک بار مارتا ہے تو آپ کو پوری کوشش ہوتی ہے کہ آپ اسے دگنی طاقت سے جواب دیں اور اسرائیل نے تو ماضی میں ہمیں کئی بار نشانہ بنایا ہے‘۔