http://bbc.com.im/urdu/

Sunday, 16 July, 2006, 11:03 GMT 16:03 PST

شہریوں کی ہلاکت کی تحقیقات

افغانستان کے صدر حامد کرزئی نےصوبہ ہلمند کے علاقے نوزاد میں برطانوی فوج کی جانب سے فضائی حملوں میں شہریوں کی مبینہ ہلاکت کے واقعے کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔

مقامی لوگوں نے بی بی سی کو بتایا کہ بدھ کو ایک بازار میں دو سو ستائیس کلو گرام وزنی کم از کم تین بم گرائے گئے جس میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد ہلاک ہوئی ہے۔

برطانوی فوج کا کہنا ہے کہ مقامی لوگوں کے پاس اپنے اس دعوے کو درست ثابت کرنے کے لیئے کوئی ثبوت موجود نہیں ہے۔

افغان ذرائع نے بتایا کہ پیر کو جنوبی ارزگان میں ترین کوٹ کے مقام پر امریکی فضائی حملوں میں ساٹھ کے قریب شہری ہلاک ہوئے۔

ایک دیہاتی فدا محمد نے قندھار کے ایک ہسپتال سے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ حملوں میں وہ لوگ نشانہ بنےجو گھروں پر ہیلی کاپٹرگرنے کے بعد ان سے اٹھنے والی آگ سے جان بچانے کے لیئے باہر بھاگ رہے تھے۔

امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے ان حملوں میں چالیس جنگجوؤں کو نشانہ بنایا ہے لیکن اس کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ افغان حکومت کو اس معاملے کی تحقیقات میں مدد فراہم کرے گا۔

نوزاد کے علاقے میں مقامی حکومت کے ایک دفتر کے احاطے میں جنگؤوں نے برطانوی فوج پر حملہ کر دیا جواباً اپنے دفاع میں برطانوی فوج نے بم برسائے۔
یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ جس وقت امریکی جہازوں نے بازار پر کم از کم
تین بم گرائے اس وقت طالبان جنگجومحض پچاس میٹر کی دوری پر اپنی پوزیشنیں سنبھالے ہوئے تھے۔

برطانوی فوج کا کہنا ہے کہ اس بات کا کوئی ثبوت موجود نہیں کہ ان حملوں میں شہریوں کو نشانہ بنایا گیا اور یہ بھی کہ طالبان جنگجوؤں کے ساتھ جاری اس لڑائی میں بم برسانا ضروری تھا۔

بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق یقین کے ساتھ یہ کہنا مشکل ہے کہ اس حملے میں کتنے لوگ ہلاک ہوئے اور یہ بھی کہ آیا وہ شہری ہی تھے یا نہیں کیونکہ دونوں جانب سے لڑائی اب بھی جاری ہے اوراس علاقے میں رہنے والے بہت سے لوگ علاقہ چھوڑ کر جا چکے ہیں۔

دریں اثناء سنگین صوبے میں طالبان کی پسپائی کے بعد سے وہاں برطانوی فوج نے بڑے پیمانے پر آپریشن شروع کیا ہوا ہے۔

اس علاقے میں طالبان جنگجوؤں کے ساتھ کئی ہفتوں تک چلنے والی لڑائی کے بعد برطانوی فوج کا کہنا ہے کہ اب یہ علاقہ اتحادی فوج کے قبضے میں ہے۔