Thursday, 13 July, 2006, 23:28 GMT 04:28 PST
امریکہ نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش کی جانے والی اس قرار داد کے مسودے کو ویٹو کیا ہے جس میں غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوجی کارروائی اور حماس کے عسکری بازو کے ہاتھوں اسرائیلی فوجی کو قبضے میں کرنے کی مذمت کی گئی ہے۔
سلامتی کونسل کے پندرہ اراکین میں سے امریکہ وہ واحد ملک تھا جس نے اس قرار داد کے خلاف ووٹ دیا۔
اقوامِ متحدہ میں بی بی سی کے نامہ نگار رچرڈ گیلپن کے مطابق قطر کی طرف سے پیش کی جانے والی قرار داد کے مسودے کو بہت احتیاط سے لکھا گیا تھا تاکہ غزہ کی پٹی میں تشدد کے واقعات پر دونوں فریقوں کی مذمت کی جائے۔
قرار داد میں اسرائیلی فوج کی غزہ میں کارروائی کی، جس میں درجنوں فلسطینی ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں، مذمت کے ساتھ ساتھ ان فلسطینیوں کی بھی مذمت کی گئی تھی جنہوں نے جون کے اختتام میں ایک اسرائیلی فوجی کو قبضے میں کیا تھا اور اسرائیل پر راکٹ برساتے رہے تھے۔ قرار داد میں اسرائیل پر زور دیا گیا کہ وہ غزہ میں اپنی کارروائی بند کر دے اور اپنی فوجوں کو واپس بلا لے۔
تاہم امریکہ، جو کہ اسرائیل کا سب سے بڑا حلیف ہے، قرار داد سے خوش نہیں تھا اور اسے ویٹو کر دیا گیا۔
اقوامِ متحدہ میں امریکہ کے سفیر جان بولٹن کا کہنا ہے کہ یہ قرار داد بے موقع اور غیر متوازن ہے۔
اقوامِ متحدہ میں فلسطین کے نمائندے ریاض منصور نے قرار داد کو مسترد کیئے جانے کو انتہائی بدقسمتی قرار دیا ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ غزہ میں حالات بین الاقوامی برادری کی فوری توجہ چاہتے ہیں۔