http://bbc.com.im/urdu/

Thursday, 13 July, 2006, 00:31 GMT 05:31 PST

غزہ حملوں میں 23 فلسطینی ہلاک

غزہ شہر میں اسرائیلی طیاروں کی بمباری سے فلسطینی وزارتِ خارجہ کی عمارت تباہ ہو گئی ہے۔

اطلاعات کے مطابق حملے کے بعد عمارت میں آگ لگ گئی اور ارد گرد کی عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا۔

فلسطینی ذرائع کے مطابق بدھ کے روز اسرائیلی حملوں میں کم از کم تیئس افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

اس سے قبل اسرائیلی فوج نے حماس کے عسکری بازو کے رہنما محمد ضیف کو ہلاک کرنے کے لیئے حملہ کیا جس میں وہ تو صرف زخمی ہوئے لیکن وہاں موجود سات بچے اور ان کے والدین ہلاک ہو گئے۔

اسرائیل کے مطابق محمد ضیف گزشتہ دس سال سے اسرائیل کو مطلوب ترین دس افراد کی فہرست میں پہلے نمبر پر ہے۔ تاہم حماس نے ان کے زخمی ہونے کی تردید کی ہے۔
محمود ظاہر
حماس کے وزیرِ خارجہ محمود ظاہر

حماس کے ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ محمد ضیف حملے کے وقت اس مقام پر موجود نہیں تھے لہٰذہ وہ اس میں زخمی نہیں ہوئے ہیں۔ حماس کے مطابق یہ حملہ اتنا شدید تھا کہ اس سے وہ گھر مکمل طور پر تباہ ہوگیا۔

یہ حملہ اس وقت کیا گیا جب اسرائیلی فوجی سرحد عبور کرکے مرکزی غزہ میں داخل ہوگئے ہیں۔

غزہ میں بی بی سی کے نامہ نگار ایلن جونسٹن کے مطابق اسرائیلی فوج نے فلسطینی علاقے میں اپنے آپریشن میں توسیع کردی ہے اور وہ خان یونس کے مشرق میں واقع کھیتوں میں کئی سو میٹر تک اندر داخل ہوچکے ہیں۔

اس بڑی فوجی کارروائی کا مقصد اس اسرائیلی فوجی کو بازیاب کرانا ہے جسے حماس نے اپنی تحویل میں لے رکھا ہے۔

اسرائیلی فضائی حملہ حماس کے کارکن شیخ ریاض کے گھر پر کیا گیا تھا۔ اسرائیلی فوج کا دعوٰی تھا کہ حملے کے وقت محمد ضیف سمیت حماس کے کارکن وہاں ایک اجلاس کررہے تھے۔

نامہ نگار کے مطابق رات کے وقت وہاں پہلے تیز روشنی دکھائی دی اور پھر کالے دھویں کے گہرے بادل اوپر اٹھتے نظر آئے۔اسرائیل نے ماضی میں بھی کئی بار محمد ضیف کو ہلاک کرنے کی کوششیں کی ہیں مگر وہ ہر بار ناکام رہے ہیں۔

دو ہفتے سے جاری اس اسرائیلی آپریشن میں اب تک اسی سے زائد فلسطینی اور ایک اسرائیلی فوجی ہلاک ہو چکا ہے۔