Wednesday, 12 July, 2006, 15:13 GMT 20:13 PST
حزب اللہ نے اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ ان کے قبضے میں موجود دو اسرائیلی فوجی صرف مذاکرات کے ذریعے ہی واپس حاصل کیئے جا سکتے ہیں۔
حسین نصر اللہ کا کہنا تھا کہ اگر اسرائیل اس بحران کو شدید تر کرنا چاہتا ہے تو ان کی افواج مقابلے کے لیئے تیار ہیں۔
انہوں نے یہ بیان اسرائیل کی جانب سے فوجیوں کی بازیابی کے لیئے طیاروں، ٹینکوں اور جنگی کشتیوں کی مدد سے جنوبی لبنان پر حملے کے بعد دیا ہے۔
سنہ 2000 کے بعد ہونے والے اس حملے میں سڑکوں اور حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے اور اب تک دو شہریوں کی ہلاکت کی اطلاع ہے۔اسرائیلی فوجی جنوبی لبنان میں اپنے ساتھیوں کی تلاش میں داخل ہوگئے ہیں جبکہ حکام کے مطابق ہزاروں ریزرو فوجیوں کو سرحد پر تعینات کر دیا گیا ہے۔
اسرائیل کے وزیراعظم ایہود اولمرت نے لبنان کو اسرائیل کے پکڑے جانے والے فوجیوں کی قسمت کا ذمہ دار قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ ایک’جنگی حربہ‘ ہے اور لبنان کو اس کی بھاری قیمت ادا کرنی پڑے گی۔
تاہم حزب اللہ کے ترجمان حسین نابلوسی نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی تنظیم اِن فوجیوں کے بدلے میں اسرائیلی جیل میں قید لبنانیوں کی رہائی چاہتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں یقین ہے کہ اسرائیل بات چیت پر آمادہ ہو جائےگا‘۔
اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے لبنان پر اسرائیل حملے کے ساتھ ساتھ فوجیوں کو پکڑنے کی بھی مذمت کی ہے۔
بیروت میں بی بی سی کے نمائندے کا کہنا ہے کہ لبانی حکومت بھی اسرائیلی فوجیوں کے پکڑے جانے کے واقعے سے حیران ہے اور اس نے اب تک اس واقعے پر کسی ردعمل کا اظہار نہیں کیا ہے۔