http://bbc.com.im/urdu/

Wednesday, 12 July, 2006, 11:55 GMT 16:55 PST

حزب اللہ نے بھی دو فوجی پکڑ لیئے

لبنان کی شیعہ تنظیم حزب اللہ نے لبنان اسرائیل سرحد پر ایک جھڑپ کے دوران دو اسرائیلی فوجی پکڑ لیئے ہیں۔

سرحدی علاقے میں شدید جھڑپ اب بھی جاری ہے۔ حزب اللہ کی جانب سے اسرائیل پر راکٹ داغے جارہے ہیں جبکہ اسرائیل کی طرف سے ٹینک اور گولہ باری کے ساتھ ساتھ فضائی حملے بھی جاری ہیں۔

لبنان کے ذرائع کے مطابق اسرائیلی فضائی حملوں میں سڑکوں، پلوں اور سکیورٹی پوسٹوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ ان حملوں میں جانی نقصان کی اطلاعات بھی ہیں۔

اسرائیلی وزیر اعظم نے کہا ہے کہ ’جو کوئی بھی اپنے مقاصد حاصل کرنے کی خاطر ہم سے ٹکر لے گا، اسے اس کی بھاری قیمت ادا کرنی ہوگی‘۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ ان کے پکڑے گئے دونوں فوجیوں کے لیئے لبنانی حکومت ذمہ دار ہے۔ انہوں نے لبنانی حکام سے اس سلسلے میں فوری ایکشن کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

اسرائیلی حکام کے مطابق ان کے فوجی اپنے ساتھیوں کی تلاش میں جنوبی لبنان میں داخل ہوگئے ہیں۔

یہ واقعہ ایسے وقت پر ہوا ہے جب اسرائیلی فوجی غزہ میں بھی ایک بڑی کارروائی میں مصروف ہیں۔ دو ہفتہ قبل فلسطینی تنظیم حماس نے اسرائیل کے ایک فوجی کو اپنے قبضے میں لیا تھا۔

غزہ پر کیئے گئے تازہ فضائی حملے میں چھ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

بدھ کی صبح حزب اللہ نے اسرائیلی شہر شیلوم پر بم اور راکٹ فائر کیئے۔اسرائیلی ترجمان کے مطابق ان حملوں میں جانی نقصان بھی ہوا ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم نے کابینہ کا ایک خصوصی اجلاس طب کیا ہے۔

حزب اللہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ دو اسرائیلی فوجی ان کے قبضے میں ہیں جنہیں ’محفوظ مقام‘ پر پہنچا دیا گیا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ فوجیوں کو پکڑنے کا مقصد اسرائیلی جیلوں میں قید افراد کی رہائی ہے۔

ابھی یہ نہیں معلوم کہ آیا یہ زخمی ہیں، زندہ ہیں یا پھر ہلاک کردیئے گئے ہیں۔

حزب اللہ ٹی وی کے چیف ایڈیٹر ابراہیم موساوی نے کہا ہے ’یہ کارروائی حزب اللہ کے لبنانی حکومت سے کیئے گئے اس وعدے کو نبھانے کے لیئے کی گئی ہے جس میں انہوں نے عہد کیا تھا کہ اپنے قیدیوں کی رہائی کے لیئے وہ ہر ممکن کوشش کریں گے‘۔

ان کا کہنا ہے ’اسرائیل نے لبنان کے کئی حصوں پر اب بھی قبضہ کر رکھا ہے اور اپنی جیلوں میں یرغمال رکھے ہوئے ہیں جن میں سے کچھ تو پچیس سال سے بھی زیادہ عرصے سے وہاں قید میں ہیں‘۔

حزب اللہ نے 2000 میں بھی تین اسرائیلی فوجی پکڑے تھے۔ وہ تینوں کارروائی کے دوران مارے گئے تھے۔ بعد میں تنظیم نے ان کے لاشوں کے بدلے اسرائیلی جیلوں میں قید 430 فلسطینی اور لبنانی افراد آزاد کروائے تھے۔

نامہ نگار کا کہنا ہے کہ دو فوجیوں کو پکڑنے کا واقعہ، تنظیم کی فلسطین کے ساتھ زبردست یکجہتی کی علامت ہے اور یہ اسرائیلی حکومت پر دباؤ ڈالنے کا حربہ بھی ہے۔

حزب اللہ کو شام اور ایران کی حمایت حاصل ہے۔

اسرائیل اور امریکہ کا کہنا ہے کہ حماس نے جس اسرائیلی فوجی کو پکڑا ہے، اس کے لیئے شام بھی ذمہ دار ہے کیونکہ شام میں حماس کی سرپرستی کی جاتی ہے۔