Wednesday, 12 July, 2006, 08:31 GMT 13:31 PST
غزہ میں ایک گھر پر اسرائیلی فوج کے فضائی حملے میں کم از کم چھ افراد ہلاک اور پندرہ زخمی ہوئے ہیں۔
فلسطینی ہسپتال کے ذرائع کے مطابق ہلاک شدگان میں دو عورتیں اور دو بچے بھی شامل ہیں۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس حملے میں محمد ضیف نامی حماس کا ایک مبینہ بم ساز زخمی ہوگیا ہے۔ اسرائیل کے مطابق یہ وہ شخص ہے جو گزشتہ دس سال سے اسرائیل کو مطلوب ترین دس افراد کی فہرست میں پہلے نمبر پر ہے۔ تاہم حماس نے اس اطلاع کی تردید کی ہے۔
حماس کے ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ محمد ضیف حملے کے وقت اس مقام پر موجود نہیں تھے لہٰذہ وہ اس میں زخمی نہیں ہوئے ہیں۔ حماس کے مطابق یہ حملہ اتنا شدید تھا کہ اس سے وہ گھر مکمل طور پر تباہ ہوگیا ہے۔
یہ حملہ اس وقت کیا گیا جب اسرائیلی فوجی سرحد عبور کرکے مرکزی غزہ میں داخل ہوگئے ہیں۔
غزہ میں بی بی سی کے نامہ نگار ایلن جونسٹن کے مطابق اسرائیلی فوج نے فلسطینی علاقے میں اپنے آپریشن میں توسیع کردی ہے اور وہ خان یونس کے مشرق میں واقع کھیتوں میں کئی سو میٹر تک اندر داخل ہوچکے ہیں۔
اس بڑی فوجی کارروائی کا مقصد اس اسرائیلی فوجی کو بازیاب کرانا ہے جسے حماس نے اپنی تحویل میں لے رکھا ہے۔
اسرائیلی فضائی حملہ حماس کے کارکن شیخ ریاض کے گھر پر کیا گیا تھا۔ اسرائیلی فوج کا دعوٰی تھا کہ حملے کے وقت محمد ضیف سمیت حماس کے کارکن وہاں ایک اجلاس کررہے تھے۔
نامہ نگار کے مطابق رات کے وقت وہاں پہلے تیز روشنی دکھائی دی اور پھر کالے دھویں کے گہرے بادل اوپر اٹھتے نظر آئے۔اسرائیل نے ماضی میں بھی کئی بار محمد ضیف کو ہلاک کرنے کی کوششیں کی ہیں مگر وہ ہر بار ناکام رہے ہیں۔