http://bbc.com.im/urdu/

Monday, 10 July, 2006, 06:15 GMT 11:15 PST

صدام نے مقدمے کا بائیکاٹ کر دیا

سابق عراقی رہنما صدام حسین نے کہا ہے کہ وہ اپنے جاری مقدمے کا بائیکاٹ کریں گے۔

صدام حسین کے خلاف جاری مقدمے کی کارروائی اپنے آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہے۔

صدام کو پھانسی دی جائے

منگل کے روز جب مقدمے کی کارروائی شروع ہوئی تو ایک ملزم علی دائمی کے علاوہ کوئی دوسرا ملزم عدالت میں موجود نہیں تھا۔

صدام اور ان کے ساتھیوں پر سنہ 1982 میں اس وقت کے عراقی صدر پر ایک ناکام قاتلانہ حملے کے بعد دجیل کے علاقے میں ایک سو اڑتالیس دیہاتیوں کے قتل کے الزام میں مقدمہ چل رہا ہے۔

عدالت کو لکھے گئے ایک خط میں صدام حسین نے کہا کہ ان کے خلاف مقدمہ امریکہ کے مذموم عزائم کے تحت درج کیا گیا ہے۔ عدالت نے صدام حسین کا عدالت کو لکھا گیا خط جاری کر دیا۔

مقدمے کے شروع ہوتے ہی چیف جج راؤف عبد الرحمن نے صدام حسین کے وکیل خامس العابدی کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کیا۔

وکلائے استغاثہ نے اپنے حتمی دلائل انیس جون کو مکمل کیئے تھے جس میں صدام حسین، ان کے سوتیلے بھائی برزان تکریتی اور سابق عراقی نائب صدر طہٰ یٰسین رمضان کو سزائے موت دینے کی اپیل کی گئی تھی۔

صدام حسین اور ان کے ساتھی دجیل میں شیعہ دیہاتیوں کے قتلِ عام سے انکار کرتے رہے ہیں اور وکلائے صفائی کا کہنا ہے کہ دجیل میں کیا جانے والا کریک ڈاؤن ملک کےصدر پر قاتلانہ حملے کے ذمہ دار افراد کے خلاف ایک قانونی کارروائی تھی۔

استغاثہ نے عدالت سے بعث پارٹی کے رہنما محمد ازاوی علی کے خلاف جاری مقدمہ ختم کرنے دیگر رہنماؤں عبداللہ خادم روید، علی ضعیم علی اور مظہر عبداللہ روید کی سزا کم کرنے کی بھی درخواست کی ہے۔

صدام حسین کے خلاف جاری مقدمے کے دوران جہاں ایک جج مستعفی ہوئے وہیں تین وکلائے صفائی کو قتل بھی کر دیا گیا اور اس مقدمے کی کارروائی کو بین الاقوامی تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

اگلے ماہ صدام اور ان کے چھ ساتھی قتلِ عام کے ایک اور مقدمے کا بھی سامنا کریں گے۔اس مقدمے میں ان پر اسّی کی دہائی میں عراقی کردوں کی نسل کشی کا الزام ہے۔