Sunday, 09 July, 2006, 11:21 GMT 16:21 PST
قاہرہ کے ایک سرکردہ وکیل نے کہا ہے کہ امریکہ نے جس مصری کی القاعدہ کے نئے سربراہ کے حیثیت سے نشاندہی کی ہے وہ مصر کی ایک جیل میں سات سال کی سزا کاٹ رہا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ امریکی اعلان میں بظاہر یہ تضاد دونوں جانب سے ایک دوسرے کو گمراہ کرنے کے لیے جاری کی جانے والی اطلاعات کا حصہ ہے۔
ممدوح نے اس کے ساتھ یہ بھی کہا ہے کہ اس نوع کی اطلاعات کی آزادانہ ذرائع سے تصدیق ناممکن ہے۔
ممدوح اسماعیل خود بھی ایک سرگرم اسلام پسند رہ چکے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ اس زمانے میں، اسامہ بن لادن کے ایک قریبی ساتھی اور اب القاعدہ کے نائب سربراہ سمجھے جانے والے ایمن الظواہری کے بھی وکیل رہ چکے ہیں جب وہ مصر میں تھے۔
امریکہ سے یہ اطلاع جاری کی گئی تھی کہ ابو مصعب الزرقاوی کے ہلاک کیئے جانے کے بعد اب ایوب المصری المعروف ابو حمزہ المہاجر عراق میں القاعدہ کی قیادت کر رہے ہیں۔ امریکی ذرائع نے ایوب المصری کی تصویر بھی جاری کی تھی۔
ممدوح اسماعیل کا کہنا ہے کہ ایوب المصری کی عراق میں موجودگی کا اعلان اطلاعاتی گمراہی یا ڈس انفارمیشن کا حصہ ہو سکتی ہے۔