http://bbc.com.im/urdu/

Friday, 07 July, 2006, 10:48 GMT 15:48 PST

غزہ پر اسرائیلی فضائی حملے

اسرائیل نے جمعہ کی صبح غزہ کی پٹی پر مزید فضائی حملے کیے ہیں جس میں ایک فلسطینی شدت پسند ہلاک جبکہ تین دوسرے زخمی ہو گئے ہیں۔

یہ فضائی حملے فلسطینی شدت پسندوں کے اسرائیلی سپاہی کے اغواء کی رہائی کے لیے اسرائیلی فوج کے غزہ میں داخلے اور اس کے نتیجے میں پرتشدد واقعات کے ایک دن بعد کیئے گئے ہیں جس میں بائیس فلسطینی اور ایک اسرائیلی ہلاک ہوئے۔

اسرائیل نے سپاہی کی رہائی کے لیئے بڑے پیمانے پر فوجی آپریشن شروع کر دیاہے۔ جو اپنی نوعیت کے اعتبار سے بہت بڑا آپریشن کہا جا سکتا ہے۔

اس سے قبل فلسطینی وزیراعظم اسماعیل ہانیہ نے بین الاقوامی برادری سے اپیل کی تھی کہ وہ مداخلت کر کے غزہ میں جاری اسرائیلی آپریشن کو روکے۔

حماس سے تعلق رکھنے والے اسماعیل ہانیہ نے اسرائیلی کارروائی کو ’انسانیت کے خلاف جرم‘ قرار دیا۔

داخلہ نے فلسطینی انتظامیہ کی سکیورٹی فورسز سے اپیل کی ہے کہ وہ غزہ کی پٹی میں پیش قدمی کرنے والے اسرائیلی فوجیوں کا مقابلہ کریں۔

اسرائیل کے فضائی حملوں اور لڑائی میں ہلاک ہونے والوں میں کئی مبینہ شدت پسند شامل ہیں ہیں لیکن ان میں سویلین بھی ہیں۔ غزہ میں اسرائیلی پیش قدمی کے بعد سے ایک روز میں ہونے والی یہ سب سے زیادہ ہلاکتیں ہیں۔

اسرائیلی فوجیوں نے شمالی غزہ میں اپنی کارروائیاں جاری رکھی ہیں۔ اپنے فوجی کو فلسطینی شدت پسندوں کے قبضے سے چھڑانے کے لیئے اسرائیلی فوج کی یہ سب سے بڑی کارروائی ہے جو غزہ سے گزشتہ سال کے اسرائیلی انخلاء کے بعد ہوئی ہے۔

 اسرائیل کے فضائی حملوں اور لڑائی میں ہلاک ہونے والوں میں کئی مبینہ شدت پسند شامل ہیں ہیں لیکن ان میں سویلین بھی ہیں۔ غزہ میں اسرائیلی پیش قدمی کے بعد سے ایک روز میں ہونے والی یہ سب سے زیادہ ہلاکتیں ہیں
 

فلسطینی انتظامیہ کے وزیر داخلہ سعید سیام نے فلسطینی سکیورٹی فورسز سے اسرائیلی افواج کا مقابلہ کرنے کی اپیل کی۔ لیکن نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ وزیر داخلہ کا سکیورٹی فورسز کے اندر کم ہی اثر ہے کیوں کہ فلسطینی سکیورٹی فورسز الفتح سے منسلک ہیں جبکہ اقتدار پر حماس کا کنٹرول ہے۔

وزیر داخلہ سعید سیام نے کہا کہ فلسطینی سکیورٹی فورسز کی یہ اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ ’صیہونی حملے‘ کا سامنا کریں۔

فلسطینی مذاکرات کار صائب عرکات نے کہا ہے کہ اسرائیلی کارروائیوں سے ان سفارتی کوششوں کو دھچکا پہنچا ہے جو اسرائیلی فوجی گیلاد شالیت کو رہا کرانے کے لیے کی جارہی ہیں۔

فلسطینی طبی ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران بائیس ہلاکتوں کے علاوہ غزہ میں متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ تازہ تشدد میں ایک اسرائیلی فوجی بھی ہلاک ہوا ہے۔

فلسطینی شدت پسند جو راکٹ سے چلانے والے گرینیڈ اور آٹومیٹِک رائفلوں سے مسلح ہیں، ان اسرائیلی افواج کا مقابلہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں جن کے پاس ٹینک ہیں اور غزہ کی گلیوں میں لڑنے کے لیے انہیں ہیلی کاپٹر گن شِپ کی حمایت بھی حاصل ہے۔

بی بی سی کے ایک نامہ نگار کا کہنا ہے کہ شمالی غزہ میں اسرائیل ایک بفر زون بنانے کی کوشش میں ہے تاکہ فلسطینی شدت پسندوں کو اور پیچھے دھکیلا جاسکے۔ فلسطینی شدت پسند ان علاقوں سے اسرائیل پر میزائل حملے کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔

اسرائیلیوں اور فلسطینیوں میں ہونے والی لڑائی بیت لاھیہ اور خان یونس کے علاقے میں ہے۔ بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اگرچہ اسرائیلی فوج کہتی رہی ہے کہ اس کی کارروائی میں سویلین نشانے پر نہیں ہیں لیکن جمعرات کی لڑائی سے شہری علاقوں میں لڑنے کے خطرات کا اندازہ لگتا ہے۔

گزشتہ اڑتالیس گھنٹوں میں حماس کی عسکری وِنگ نے اسرائیلی شہر عسقلان پر دو راکٹ فائر کیے ہیں اور یہ پہلی بار ہے جب فلسطینی شدت پسندوں نے ایک اہم شہر کو نشانہ بنایا ہے تاہم ان کے راکٹ تباہ کن نہیں ہیں۔ عسقلان پر حملوں میں کوئی ہلاک نہیں ہوا ہے۔

اسرائیلی وزیر بن یامین یلیزیر نے اصرار کیا ہے کہ اسرائیلی فوج غزہ میں نہیں ٹھہرنا چاہے گی۔ اسرائیل گزشتہ سال غزہ سے یکطرفہ طور پر چلا گیا تھا۔ اب اسرائیل کا کہنا ہے کہ فلسطینی شدت پسند یہاں سے اس پر راکٹ داغ رہے ہیں۔

دریں اثناء فلسطینی شدت پسندوں کے قبضے میں اسرائیلی فوجی گیلاد شالیت کے بارے میں مزید کوئی اطلاع نہیں مل رہی ہے لیکن اسرائیل کا خیال ہے کہ وہ زندہ ہیں۔