Thursday, 06 July, 2006, 11:27 GMT 16:27 PST
شمالی کوریا نے میزائیلوں کے تجربات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ آزمائشیں جاری رہیں گی۔
اس کا کہنا ہے کہ ’اور اگر عالمی برداری نے پیانگ یانگ پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی تو شمالی کوریا اس کا ’بھر پور عملی جواب‘ دے گا‘۔
بدھ کو شمالی کوریا نے میزائلوں کے کئی تجربے کیئے ہیں جن میں سے ایک ایسا میزائیل بھی شامل تھا جس کی مار امریکہ کی ریاست الاسکا تک ممکن ہو سکتی ہے اگرچہ ٹائپوڈونگ-2 نامی اس میزائل کا تجربہ ناکام ثابت ہوا ہے۔
امریکی صدر جارج بش میزائیلوں کے اس مسئلے پر جوابی کارروائی کے لیئے ایشائی حمایت پر انحصار کر رہے ہیں تا کہ متفقہ کارروائی کی جا سکے۔
تاہم اختلافات ظاہر ہونا شروع ہو چکے ہیں۔ جاپان اقتصادی پابندیوں کے لیئے دباؤ ڈال رہا ہے جب کہ جنوبی کوریا شمالی کوریا سے رابطے جاری رکھنے کے لیے مضطرب ہے۔
روایتی شمالی اتحادی روس اور چین بھی کسی بھی تادیبی کارروائی کے مخالف ہیں۔
شمالی کوریا کے ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والے بیانات میں اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ میزائیلوں کے تجربات کیئے گئے ہیں۔
اس سلسلے میں سرکاری خبر رساں ادارے کے ذریعے جاری کیئے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’میزائیلوں کے کامیاب تجربات معمول کی فوجی مشقوں اور خود حفاظتی نظام کے تقاضوں کا حصہ ہیں‘۔
مزید یہ کہ ’مستقبل میں ہماری فوج میزائیلوں کی یہ آزمائشیں اور تجربات معمول کے مطابق جاری رکھے گی‘۔ بیان میں اصرار کیا گیا ہے کہ یہ عمل ’ہمارا قانونی حق ہے‘۔
دریں اثنا جنوبی کوریا کے ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی خبروں سے بھی اس دھمکی کی تصدیق ہوتی ہے۔ ان خبروں میں کہا گیا ہے کہ اس وقت بھی مزید تین یا چار میزائیل شمال میں لانچنگ پیڈز پر چھوڑے جانے کے انتظار میں ہیں۔
جنوبی کوریا کی ان اطلاعات کے مطابق ان میزائیلوں میں ٹائپوڈونگ-2 طرز کا کوئی میزائیل نہیں ہے۔ جب کہ جاپان کا کہنا ہے کہ ان میں ایک میزائیل ٹائپوڈونگ-2 جیسا دور مار بھی ہو سکتا ہے۔