اس وقت تو ایسا لگ رہا ہے کہ اسرائیل کی حماس کی عسکری تحریک کے قبضے سے اپنا فوجی چھڑانے کی تمام کوششیں رائیگاں جا رہی ہیں۔ اس سے یہ بھی پتہ چل رہا ہے کہ سفارتی اور فوجی کارروائیوں کی بھی ایک حد ہے۔
حماس کی عسکری تحریک اس بات پر مصر نظر آ رہی ہے کہ اسرائیلی فوجی جلعاد شالیط کی رہائی کے لیئے کوئی سودا ہو۔
اس وقت اسرائیلی جیلوں میں نو ہزار کے قریب فلسطینی بند ہیں۔ ان میں سے اکثر کو اسرائیل دہشت گرد قرار دیتا ہے۔ لیکن غزہ کے باسیوں کی نظر میں یہ آزادی کی تحریک کے ہیرو ہیں۔
اسرائیل کی قید میں موجود فلسطینیوں کو چھوڑنے پر اسرائیل کو مجبور کرنے کی کوششوں کے لیئے یہاں کافی عوامی حمایت موجود ہے۔
فلسطینی سمجھتے ہیں کہ اس مرتبہ ان کا پلہ ذرا بھاری ہے اور وہ اپنی بات منوا سکتے ہیں۔
اسرائیل نے غزہ کی شہری آبادی پر بہت دباؤ ڈالا ہے۔ اس کی فضائیہ نے غزہ کی تقریباً آدھی آبادی کو بجلی سے محروم کر دیا ہے اور شروع میں تو اس آبادی کو سپلائی کیئے جانے والے ایندھن اور خوراک کو بھی روک دیا تھا۔
![]() | |
| حماس کے لیئے عوامی حمایت میں اضافہ نظر آ رہا ہے |
اسی دوران اسرائیل کے اس فعل کی پوری دنیا نے مذمت کی ہے۔
اسرائیل کا کہنا ہے کہ بجلی گھروں پر حملہ حماس کی کارروائیوں میں رکاوٹ کے لیئے کیا گیا ہے۔ تاہم اقوامِ متحدہ کے نمائندے کا کہنا ہے کہ یہ انسانی حقوق کے قانون کی خلاف ورزی ہے کیونکہ اس سے بلاوجہ شہری آبادی کو اذیت دی جا رہی ہے۔
اسرائیلی فوجی اور ٹینک غزہ کی سرحد پر کھڑے ہیں اور یہاں بھی ان کے کچھ حاصل کرنے کی ایک حد ہے۔ اگر وہ ماضی کی طرح پناہ گزینوں کے کیمپ میں گھس جاتے ہیں تو بڑی تعداد بچے اور نوجوان ہلاک ہوں گے۔ فلسطینی رویہ مزید پختہ ہو گا اور بین الاقوامی برادری اس بات کو ناپسند کرے گی۔ اور اگر اسرائیل یہ کارروائی شروع کرتا ہے تو پھر اس کے ٹینکوں کے لیئے اسرائیلی فوجی یا اس کی لاش لیئے بغیر نکلنا مشکل ہو جائے گا۔
اسرائیل کے ایک سینیئر فوجی کا یہ کہنا غلط نہیں ہے کہ ’اس طرح کی کارروائیوں کے ساتھ ایک مسئلہ یہ ہے کہ اگر آپ داخل ہو جائیں تو پھر یہ کہنا مشکل ہو جاتا ہے کہ آپ کب یہاں سے نکل رہے ہیں۔ ہم لبنان میں اٹھارہ سال رہے تھے‘۔