Wednesday, 05 July, 2006, 00:23 GMT 05:23 PST
شمالی کوریا نے میزائلوں کے کئی تجربے کیے ہیں جن میں سے ایک کا رینج اتنا دور تک ہے کہ امریکی وزارت خارجہ کے اہلکاروں کے خیال میں وہ امریکہ تک پہنچ سکتا ہے۔
امریکہ نے کہا ہے کہ شمالی کوریا نے کم سے کم پانچ میزائل داغے اور چھٹے میزائل داغے جانے کی تصدیق نہیں کی جاسکتی ہے۔ جاپان کی درخواست پر اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل اس مسئلہ پر ہنگامی بات چیت کرنے کی تیاری کررہی ہے۔
یہ تمام میزائل ایک دوسرے کے بعد چند گھنٹوں کے اندر ہی داغے گئے۔ امریکی حکام نے بتایا کہ طویل دوری تک جانے کا اہل ٹائپوڈونگ-2 نامی ایک میزائیل چالیس سیکنڈ اڑنے کے بعد ناکام ہوگیا۔ یہ میزائل 6000 کلومیٹر تک جاسکتا ہے جس کا مطلب ہے کہ وہ امریکہ کے کچھ حصوں کو نشانہ بناسکتا ہے۔
دیگر میزائل جاپان کے سمندر میں گرے ہیں۔ جاپانی حکومت نے کہا ہے کہ یہ شمالی کوریا کے یہ میزائل ایک اہم مسئلہ ہیں جن کے بارے میں وہ کوئی کارروائی کرے گا۔ امریکہ اور شمالی کوریا کے پڑوسی ممالک اس کے میزائل کے بارے میں حال ہی میں فکرمند رہے ہیں۔
اقوام متحدہ میں امریکی سفیر جان بولٹن نے کہا ہے کہ وہ اس بارے میں ’ہنگامی سطح‘ پر سلامتی کونسل کے دیگر رکن ممالک سے بات چیت کررہے ہیں۔ امریکی وزارت خارجہ کے ایک اہلکار نے کہا کہ شمالی کوریا کے میزائل داغنے کا مقصد ’غصہ دلانا‘ تھا تاکہ اسے ’توجہ‘ حاصل ہوسکے۔
وائٹ ہاؤس کے پریس سیکرٹری جان اسنو نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ ’واضح طور پر شمالی کوریا نے پھر سے خود کو تنہا کرلیا ہے۔‘ انہوں نے بتایا کہ صدر بش نے اس بارے میں وزیر دفاع ڈونلڈ رمزفیلڈ، وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس اور قومی سلامتی کے مشیر سٹیفن ہیڈلی سے بات کی ہے۔
پیر کو شمالی کوریا نے وارننگ دی تھی کہ اگر امریکہ نے اس کی ایٹمی تنصیبات پر حملہ کیا تو وہ ایک ’نیست و نابود‘ کرنے والا ایٹمی حملہ کردے گا۔ امریکہ نے شمالی کوریا کی اس وارننگ کو ’گہری قیاس آرائی‘ بتایا تھا۔
سن 2002 میں شمالی کوریا جاپان سے اس بات پر متفق ہوگیا تھا کہ وہ میزائلوں کے تجربے نہیں کرے گا۔ دوسال قبل دونوں ممالک نے اس سمجھوتے پر پھر سے اتفاق کیا تھا۔