Monday, 03 July, 2006, 03:28 GMT 08:28 PST
پاکستانی نژاد امریکیوں کے ایک آٹھ رکنی وفد نے اسرائیل کا تین روزہ دورہ کیا ہے جس کے بعد وفد کے سربراہ عمر عیق نے پاکستان اور اسرائیل کے درمیان جلد سفارتی تعلقات قائم ہوجانے کی توقع ظاہر کی ہے۔
اس آٹھ رکنی وفد کا تعلق امریکن مسلم پیس انیشی ایٹو نامی تنطیم سے تھا جس نے گزشتہ سال پاکستان اور اسرائیل کے وزراء خارجہ کے درمیان مصر میں ہونے والی ملاقات اور صدر جنرل مشرف اور اسرائیلی وزیر اعظم ایرئیل شیروں نے درمیان جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دروان ہونے والی ’اتفاقیہ‘ ملاقات میں اہم کردار ادا کیا تھا۔
یروشلم سے صحافی ہریندر مشراء نے بی بی سی اردو سروس کو بتایا کہ وفد امریکن جوئش کانگریش کی دعوت پر اسرائیل کے دورے پر آیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ تین روزہ ددرے کے دوران اس وفد نے اسرائیل کے کئی سینئر
رہنماؤں کے علاوہ اسرائیلی وزارتِ خارجہ کے اعلی اہلکاروں سے بھی ملا جن میں ڈائریکٹر جنرل بھی شامل ہیں۔
ہریندر مشرا نے بتایا کہ وفد کے سربراہ عمر عتیق نے یروشلم پوسٹ کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے اس توقع کا اظہار کیا کہ پاکستان اور اسرائیل کے درمیان بہت جلد سفارتی تعلقات قائم ہو جائیں گے۔
انہوں نے مشرق وسطی میں کشیدگی کی صورت حال پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور فریقین کو بات چیت کا راستہ اختیار کرنے کو کہا۔