Monday, 03 July, 2006, 07:03 GMT 12:03 PST
اسرائیل نے اپنے ایک فوجی کو یرغمال بنانے والے فلسطینی شدت پسندوں کی جانب سے منگل کی صبح تک فلسطینی قیدیوں کی رہائی کا الٹی میٹم مسترد کر دیا ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم ایہود اولمرت نے کہا ہے کہ ان کی حکومت کے شدت پسندی سامنے نہیں جھکے گی۔
حماس کے فوجی دھڑے اور دو دوسرے گروپوں کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق اگر اسرائیل نے فلسطینی قیدیوں کو منگل کے گرینچ کے معیاری وقت کے مطابق صبح تین بجے تک رہا نہ کیا تو’ اسرائیل کو نتائج بھگتنا ہوں گے‘۔
بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ شدت پسند اسرائیلی فوجی کے ساتھ کیا سلوک کریں گے لیکن مبصرین نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ حماس گروپوں کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کا ایک مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ اسرائیلی فوجی کو شرائط پوری نہ ہونے کے سبب ہلاک کیا جا سکتا ہے۔
دریں اثناء اسرائیلی فوج خفیہ سرنگوں اور کانوں کی تلاش میں غزہ کے شمال میں داخل ہو گئی ہے۔ اس کارروائی میں ٹینک اور بلڈوزر بھی شامل ہیں۔
اسرائیلی فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی اس بڑی فوجی کارروائی کا حِصّہ نہیں جس سے اسرائیل متنبہ کرتا رہا ہے۔گزشتہ ہفتے ایک اسرائیلی فوجی کے اغوا کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ اسرائیلی فوجی اس علاقے میں داخل ہوئے ہیں۔
خبر رساں ایجنسی اے ایف پی نے عینی شاہدین کے حوالے سے بتایا ہے کہ تقریباً پچیس ٹینک آٹھ آٹھ ٹینکوں کی گروپ میں علاقے میں داخل ہوئے۔
اسرائیل کے وزیر اعظم اپنی فوج سے کہہ چکے ہیں کہ مغوی فوجی کی بازیابی کے لیئے وہ ہر ممکن کوشش کریں۔ اتوار کو ٹینک اسرائیل کی سرحد پر جمع ہو گئے اور فضائیہ اور توپخانے کی مدد سے شمالی غزہ پر گولہ باری کی گئی۔
فلسطینی انتظامیہ میں حکمران جماعت حماس کہہ چکی ہے کہ اگر اسرائیل نے غزہ میں کارروائی بند نہ کی تو وہ اسرائیل میں اہداف کو نشانہ بنائے گی۔