http://bbc.com.im/urdu/

Sunday, 02 July, 2006, 12:17 GMT 17:17 PST

قندہار میں اتحادی ہیلی کاپٹر تباہ

افغانستان کے جنوبی صوبے ہلمند میں آپریشن کے دوران دو برطانوی فوجی ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ قندہار میں اتحادی فوج کے اڈے کے قریب اتحادی فوج کا ایک ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہو گیا ہے۔

سنیچر کےروز دونوں برطانوی فوجی اس وقت ہلاک ہوئے جب سنگن میں ان کی حفاظتی چوکی پر ایک راکٹ گرنیڈ کےذریعے حملہ کیا گیا۔ دونوں فوجی پیرا بیٹل گروپ سے تعلق رکھتے تھے۔

دو برطانوی فوجی ہلاک

دو فوجیوں کی ہلاکت کے بعد برطانوی فوج اور طالبان کے درمیان مزید جھڑپوں کی اطلاعات ملی ہیں۔ برطانوی فوج نے طالبان کے ٹھکانوں کا نشانہ بنایا ہے۔

پچھلے تین ہفتوں کے دوران افغانستان میں ہلاک ہونے والے برطانوی فوجیوں کی تعداد پانچ ہو گئی ہے۔ افغانستان میں تینتیس ہزار برطانوی فوجیوں میں سے زیادہ تعداد ہلمند میں تعینات ہے۔

وزارت دفاع کے ایک ترجمان نے کہا کہ ’بہت افسوس کے ساتھ ہم اس بات کی تصدیق کر رہے ہیں کہ کارروائی کے دوران تھرڈ پیرا بریگیڈ کے دو برطانوی فوجی ہلاک ہو گئے ہیں۔ ان کے لواحقین کو اس کی اطلاع دی جا رہی ہے‘۔

خیال ہے کہ اس کارروائی کے دوران کچھ فوجی زخمی بھی ہوئے ہیں تاہم فوج نے ان کی تعداد بتانے سے انکار کر دیا ہے۔

سیکریٹری دفاع ڈیس براؤن نے کہا ہے کہ ’میرے جذبات افغانستان میں برطانوی فوج پر حملے میں مرنے والوں کے خاندان اور دوستوں کے ساتھ ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ ’ہمارے فوجی افغانستان میں افغانیوں کو ان کے ملک کی تعمیر نو میں مدد دینے کے لیئے وہاں ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انہیں طالبان کا سامنا کرنا پڑے گا جو ترقی روکنے کے لیئے کسی حد تک بھی جا سکتے ہیں‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’ایسا کرنے میں ہمارے دو فوجی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے جس کا مجھے سخت صدمہ ہے‘۔

کابل میں بی بی سی کے نمائندے السٹیر لیتھیڈ نے کہا ہے کہ یہ ہلاکتیں برطانیہ میں برطانوی فوجی کمان کے لیئے سخت دھچکہ ہیں جو اب مختلف آپشنز پر غور کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ ’اتنے تھوڑے عرصے کے دوران اتنے زیادہ نقصان کی وجہ سے فوجی کمان ہِل گئی ہے اور اس موضوع پر سخت بحث ہو رہی ہے کہ اب کیا کیا جائے‘۔

ان کا کہنا ہے کہ ’وہ جانتے تھے کہ یہ ایک پر خطر مشن ہو گا لیکن وہ یہ نہیں چاہتے تھے کہ وہ ہلمند کے دور دراز علاقوں میں اتنی جلدی دشمن کی زد میں آ جائیں۔ اب اس بات پر غور ہو رہا ہے کہ آیا مرکز سے مزید فوج بھیجی جائے یا دور دراز کی چوکیوں سے فوج واپس بلا لی لائے لیکن یہ فوج کی تعیناتی کے لیئے ایک بڑا دھچکہ ہو گا‘۔

برطانیہ کی لیبر پارٹی کے ممبر پارلیمنٹ مائیک گیپس نے بی بی سی بریک فاسٹ سے بات کرتے ہوئے افغانستان میں سلامتی کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ ’واضح طور پر برطانوی فوج جنوبی صوبے میں اس وقت گئی ہے جب وہاں خطرہ بڑھ گیا ہے۔ وہاں وہ شدت پسند طالبان سے لڑ رہے ہیں جس کے لیئے انہیں اضافی طاقت کی ضرورت ہے اور ان کی اس علاقے میں صحیح طریقے سے حفاظت ہونی چاہیئے‘۔

انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ ’مجھے توقع ہے کہ حکومت ہمیں جلد ہی بتائے گی کہ وہ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیئے کیا کرنے کا ارادہ رکھتی ہے کیونکہ ظاہر ہے ہمیں اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ ہمارے فوجیوں کو پوری سپورٹ ملے‘۔

انفینٹری کے ایک سابق افسر پیٹرک مرسر نے بی بی سی ریڈیو سے بات کرتے ہوئے حکومت کی منصوبہ بندی پر تنقید کی۔

انہوں نے کہا کہ ’جب میں سٹاف کالج میں پڑھا رہا تھا، اس وقت اگر کوئی طالبعلم یہ منصوبہ میرے سامنے پیش کرتا تو میں اسے پوری طرح فیل قرار دیتا‘۔