Sunday, 02 July, 2006, 00:31 GMT 05:31 PST
امریکہ نے انٹرنیٹ پر جاری کیئے گئے بظاہر القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن کے بیان کو رد کردیا ہے جس میں عراق کی شیعہ آبادی کو متنبہ کیا گیا ہے کہ اگر سنیوں پر حملے جاری رہے تو ان کے خلاف انتقامی کارروائی کی جائے گی۔
وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار نے کہا ہے کہ اگر یہ بیان اصلی ہے تو اس سے ایک مرتبہ پھر یہ ثابت ہوگیا ہے کہ اسامہ بن لادن اور القاعدہ ’انسانیت کے خلاف جنگ‘ اور ’اپنے گھناؤنے عزائم‘ کا جواز پیش کرنے کے لیئے میڈیا کا استحصال کررہے ہیں۔
ان کا کہنا تھاکہ اس اقدام کا مقصد عراق اور اسلامی دنیا میں تفرقہ ڈالنا ہے۔
دو دن کے وقفے سے جاری ہونے والے اسامہ کے اس دوسرے پیغام میں عراق کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہاں سنی مسلمانوں کا قتل عام کیا جا رہا ہے۔ اس پیغام میں خبردار کیا گیا ہے کہ شیعہ علاقے بھی محفوظ نہیں رہ سکیں گے۔
ساتھ ہی اپنے اس اپنے بیان میں اسامہ نے تمام ملکوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ صومالیہ میں فوجیں نہ بھیجیں جہاں ان کے مطابق ایک اسلامی ریاست قائم کی جارہی ہے۔
صومالیہ کے لوگوں سے المحاكم الاسلاميہ کی حمایت کرنے کو کہا گیا ہے اور صومالیہ کی عبوری حکومت کے صدر عبداللہ یوسف کی مذمت کی ہے۔
اسامہ بن لادن نے اس پیغام میں عراق میں القاعدہ کے نئے رہنما ابو حمزہ المہاجر کی نامزدگی کی تائید کی ہے۔
اس انیس منٹ طویل پیغام کے ساتھ اسامہ بن لادن کی تصاویر بھی شائع کی گئی ہے تاہم آزاد ذرائع سے یہ تصدیق نہیں ہو سکی کہ کیا یہ واقعی اسامہ بن لادن کی آواز ہے۔