عرب ملکوں کی درخواست پر بلائے جانے والے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں فلسطین اور اسرائیل کے مندوبین کے درمیان الزامات کا تبادلہ ہوا ہے۔
فلسطینی مندوب نے اسرائیل پر الزام لگایا کہ اس کا غزہ پر حملہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کا حصہ ہے جس سے وہ فلسطینیوں کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنا چاہتا ہے اور فلسطینوں کو اجتماعی طور پر سزا اور ہراساں کرنا چاہتا ہے۔
اسرائیل نے کہا ہے کہ اس نے اسرائیلی فوجی کے اغواء کے کئی ہفتے تک صبر سے کام لیا اور اس کے بعد غزہ پر فوجی کارروائی کی ہے۔
امریکہ نے کہا ہے کہ موجودہ بحران کو ختم کرنے کا بہترین طریقہ ہے کہ حماس کو اسرائیلی فوجی کو غیر مشروط پر رہا کردے۔
امریکہ نے شام اور ایران پر زور دیا ہے کہ وہ مبینہ دہشت گردی میں کردار ادا نہ کریں اور حماس کے اقدامات کی بھی مذمت کی ہے اور اسے بحران ختم کرنے کے لیے لازمی قرار دیا ہے۔