http://bbc.com.im/urdu/

Saturday, 01 July, 2006, 03:23 GMT 08:23 PST

فلسطینیوں کے نئے مطالبات

فلسطین میں تین شدت پسند گروپوں نے اسرائیل فوجی کی رہائی کے لیئے نئے مطالبات پیش کیئے ہیں۔

سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس


ایک خبررساں ادارے کو فیکس کیئے جانے والے ایک بیان میں ان گروپوں نے ایک ہزار فلسطینی قیدیوں کی رہائی اور غزہ پر اسرائیلی فوج کی جارحیت کو ختم کرنے کے مطالبات پیش کیئے ہیں۔

اسرائیل نے ان گروپوں کو اسرائیلی فوج کو غیر مشروط پر رہا کرنے کو کہا ہے۔

اس دوران اسرائیل فوج نے مسلسل چوتھی رات بھی غزہ پر بمباری جاری رکھی جہاں ہزاروں فلسطینی شہری اسرائیلی محاصرے میں ہیں اور بجلی اور بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔

غزہ سے ایک مقامی صحافی نے بی بی سی اردو سروس کو بتایا کہ بجلی اور پانی بند ہونے سے ہسپتالوں میں بہت سے مریضوں کی جانوں کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔ بجلی بند ہوجانے سے کئی آپریشنوں کو مؤخر کرنا پڑا۔
چوتھی رات بھی اسرائیل نے غزہ پر بمباری جاری رکھی

تاہم بحران کو ختم کرنے کے لیے مصر نے سفارتی کوشیش تیز کر دی ہے ہیں اور ہفتے کے روز مصری خفیہ ایجنسی کے سربراہ عمر سلیمان غزہ پہنچ رہے ہیں جہاں وہ فلسطینیوں سے ملاقات کریں گے اور اسرائیلی حکام سے ملیں گے۔

غزہ میں اسرائیلی محاصرے اور اس کی افواج کی مسلسل بمباری کی وجہ سے پیدا ہونے والی صورت حال پر امدادی اداروں نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔

امدادی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ یہ بحران ایک بڑے انسانی المیہ کا رخ اختیار کرتا جا رہا ہے۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ لوگ بجلی نہ ہونے کی وجہ سے کھانے پینے کی اشیاء کا ذخیرہ کرنے سے قاصرہ ہیں اور انہیں پینے کا پانی بھی میسر نہیں ہیں۔

غزہ میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار ایلن جانسٹن کا کہنا ہے کہ اس بات کے امکان بہت کم ہیں کہ اسرائیل شدت پسندوں کے نئے مطالبات تسلیم کرلے۔