Saturday, 01 July, 2006, 01:21 GMT 06:21 PST
شاہ زیب جیلانی
بی بی سی واشنگٹن
پاکستان میں پچھلے چار ماہ سے لاپتہ سندھی قوم پرست رہنما ڈاکٹر صفدر سرکی کی اہلیہ اور بچوں نے اعلیٰ امریکی حکام سے اُن کی بازیابی کی اپیل کی ہے۔
ڈاکٹر سرکی اور اُن کا خاندان امریکی شہریت رکھتے ہے اور پچھلے پندرہ برس سے امریکہ میں مقیم ہیں ۔ ڈاکٹر سرکی کی اہلیہ پارس سرکی کا الزام ہے کہ اُن کے شوہر کو قانون نافذ کرنے والے ادارے کراچی میں اُن کی عارضی رہائشگاہ سے زبردستی اُٹھا کر لے گئے اور اندیشہ ہے کہ اُن پر تشدد کیا جا رہا ہے۔
پاکستان میں حکام ان الزامات سے انکار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ڈاکٹر صفدر ان کے پاس نہیں ۔
حالیہ مہینوں میں انسانی حقوق کے اداروں اور ذرائع ابلاغ نے پاکستان میں ڈاکٹر سرکی کی طرح پرسرار طور پر لاپتہ ہوجانے والے صحافیوں اور سیاسی کارکنوں کی بازیابی کے لیئے آواز اٹھاتے رہے ہیں۔ لیکن گزرتے وقت کے ساتھ لاپتہ افراد کے گھر والوں کی بے چینی بڑھتی جا رہی ہے۔
پارس سرکی اور ان کےدو بچے پندرہ برس کے الاہی اور دس سالہا گینم ریاست ٹیکساس میں رہتے ہیں۔ بڑھتی ہوئی مالی مشکلات کے باوجود گزشتہ ہفتے اپنے احساسِِ بے بسی سے تنگ آ کر انہوں نے مجبوراً امریکی دارالحکومت واشنگٹن کا رخ کیا۔ یہاں ان کی سینیئر وکلاء کے علاوہ امریکی محکمہء خارجہ اور کانگریس کے ارکان کے ساتھ ملاقاتیں ہوئیں ۔
پارس سرکی کا کہنا ہے کہ امریکی حکام نے ان کی درخواست ہمدردی سے سنی اوریہ معاملہ پاکستانی حکومت کے ساتھ اٹھانے کی یقین دہانی کرائی ۔
![]() | |
| پارس کا کہنا ہے کہ ان کے شوہر ایجنسیوں کے قبضے میں ہیں |
شیلا جیکسن جو کہ عام طور پر پاکستان کی حامی رکن کانگریس سمجھی جاتی ہیں نے اس موقع پر پاکستانی سفیر پر زور دیا کہ ڈاکٹر سرکی کی جلد بازیابی کے لیئے کوششیں کی جائیں۔ سفیرمحمود علی درانی نے اس معاملے سے لاتعلقی ظاہر کرتے ہوئے پارس سرکی کو یقین دلایا کہ وہ اسلام آباد جا رہے ہیں ، معاملے کی چھان بین کرائیں گے اور ضرورت پڑی تو صدر مشرف سے بھی اس پر بات کریں گے ۔
ایک ایسے وقت میں جب صدرجنرل مشرف اور بش انتظامیہ کے درمیان حالیہ برسوں کی گرمجوشی پھیکی پڑتی معلوم ہوتی ہے، واشنگٹن میں آئے دن پاکستان میں انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کا ذکر حکومت پاکستان کے لیئے کوئی نیک شگون نہیں ۔ پاکستانی حکام اکثر یہ شکایت کرتے سنے جاتے ہیں کہ ’ہمارے ملک میں بڑی بڑی مثبت چیزیں ہورہی ہیں لیکن باہر کی دنیا میں ہمارا امیج کیوں بہتر نہیں ہورہا۔۔۔‘
ذرا پارس سرکی جیسی پریشان حال خاتون کو اپنے دو بچوں کے ہمراہ امریکی اقتدار کے ایوانوں کے چکر کاٹتے دیکھیں تو اس سوال کا جواب سمجھنے میں شاید زیادہ دقت نہ ہو۔