Thursday, 29 June, 2006, 02:31 GMT 07:31 PST
مقبوضہ غرب اردن سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق اسرائیلی افواج بڑی تعداد میں غزہ کی شمالی سرحد پر جمع ہوگئی ہیں اور اس علاقے میں اسرائیل نے اپنی کارروائیاں تیز تر کر دی ہیں۔
جنوبی غزہ میں موجود اسرائیلی ٹینک اب شمالی غزہ میں داخل ہو گئے ہیں۔
فلسطینی عینی شاہدین کے مطابق انہوں نے بیت ہینون نامی قصبے کے قریب اسرائیلی ٹینکوں کو شمالی غزہ میں داخل ہوتے دیکھا ہے لیکن اسرائیل نے اس کی تصدیق نہیں کی ہے۔
اسرائیل نے مغربی کنارے کے علاقے سے حماس کے پچیس سے زیادہ وزراء اور قانون دانوں کوگرفتار بھی کر لیا ہے۔ فلسطینی حکام کے مطابق علاقے کے مختلف قصبات سے گرفتار کیئے جانے والے افراد میں فلسطینی کابینہ کے کم از کم آٹھ اراکین بھی شامل ہیں۔ مغربی کنارے کے قصبےقلقلیہ کے میئر اور ان کے نائب کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔
گرفتار ہونے والی حماس قائدین میں ڈپٹی وزیر اعظم نصر الشعر سمیت چار فلسطینی وزراء بھی شامل ہیں۔ یہ کارروائیاں فلسطینی وزیراعظم اسماعیل ہنیہ کی طرف سے اقوام متحدہ سے مداخلت کی اپیل کے بعد کی گئی ہیں۔
حماس کے عسکری ونگ کے ترجمان ابوعبیدہ نے ان گرفتاریو کو بلیک میل کرنے کی کوشش قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ان افراد کو مغوی اسرائیلی فوجی کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی خاطر گرفتار کیا گیا ہے۔
اسرائیلی فوج منگل کی رات کو جنوبی غزہ میں داخل ہوئی تھی جبکہ علاقے میں بمباری کا سلسلہ بدھ کو دن بھر جاری رہا۔
دوسری طرف غرب اردن میں فلسطینی شدت پسندوں نے کہا ہے کہ انہوں نے ایک اسرائیلی آبادکار کو ہلاک کر دیا ہے۔اس یہودی آبادکار کو گزشتہ اختتام ہفتہ اغواء کر لیا گیا تھا۔ فلسطینی سکیورٹی ذرائع کے مطابق اٹھارہ سالہ ایلیاہو عشری کی لاش رملہ کے قصبے سے ملی ہے۔
غزہ میں بی بی سی کے نامہ نگار ایلن جونسٹن کا کہنا ہے کہ اپنے فوجی کو رہا کرانے کے لیئے اسرائیل ڈرامائی طور پر حماس حکومت پر دباؤ بڑھا رہا ہے۔