Wednesday, 28 June, 2006, 15:18 GMT 20:18 PST
انور سِن رائے
بی بی سی اردو ڈوٹ کام، لندن
تیسری عالمی اردو کانفرنس: 2006 لندن میں 23جون سے 25جون تک جاری رہی۔ اردو ٹائمز کے جانب سے 2004 میں شروع کیئے جانے والے اس سلسلے کی پہلی کانفرنس نیویارک میں اور دوسری کانفرنس - 2005 کنیڈا کے شہر ٹورنٹو میں ہو چکی ہے۔
![]() | |
| ظفر اقبال کو اردو عزل کا سب سے بڑا شاعر تصور کیا جاتا ہے |
افتتاحی اجلاس گوپی چند نارنگ کی صدارت میں ہوا۔ رضا علی عابدی نے اس کی نظامت کے فرائض انجام دیئے۔ اس اجلاس میں مندوبین کا ایک دوسرے سے تعارف کرایا گیا اور تمام مندوبین نے عالمی اردو کانفرنسوں کا سلسلہ شروع کرے پر اردو ٹائمز کے ایڈیٹر خلیل الرحمٰن کی کوششوں کو سراہا۔
کانفرنس کا پہلا اجلاس جدید ٹیکنالوجی اور اردو زبان کے موضوع پر تھا۔ اس اجلاس کی صدارت فتح محمد ملک نے کی اور نظامت ڈاکٹر جاوید شیخ نے۔ اس کے مقررین میں سید اختر درانی، سید ذوالفقار صفی صدیقی اور پروفیسر ڈاکٹر طارق محمود شامل تھے۔
صدرِ اجلاس فتح محمد ملک نے کہا کہ پاکستان کے حالیہ بجٹ میں اردو کے لیئے وافر مالی وسائل فراہم کیئے گئے ہیں۔ تراجم پر کام ہو رہا ہے لیکن سماجیات سائنسدانوں کو بھی زبان کی یہ ذمہ داری محسوس کرنی چاہیئے۔
![]() | |
| ساہتیہ اکیڈمی کے سربراہ اور نقاد و دانشور گوپی چند نارنگ |
مقررین نے کہا کہ ہمیں اس سچائی کا سامنا کرنا چاہیئے کہ بیرونی ممالک میں اردو دم توڑ رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اردو کی ترقی کے لیئے انٹر نیٹ کو زیادہ سے زیادہ استعمال کیا جانا چاہیئے۔
اردو ادب میں ایشیائی خواتین کا حصہ: بغیر صدارت کے ہونے والے اس اجلاس کی نظامت کے فرائض ماہ طلعت عابدی نے انجام دیئے اور مقررین میں فرحت جہاں اور پروین لاشاری اور دیگر مقررین شامل تھے۔
مقررین نے کہا کہ سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ ’یہ بات کس حد تک درست ہے لوگوں نے کتابیں پڑھنا چھوڑ دی ہیں‘۔ بحران کے ادوار میں بھی قراۃ العین حیدر، ادا جعفری، کشور ناہید، فہمیدہ ریاض، بانو قدسیہ، خدیجہ مستور اور اس کے بعد کی نسل کی بہت سے خواتین لکھتی رہیں اور انہوں نے نہ تو اپنے انداز اور اسلوب تبدیل کیے اور نہ اپنے ناموں پر کوئی حرف آنے دیا۔
![]() | |
| اکادمی ادبیات کے سربراہ شاعر افتخار عارف |
صدرِ نشست رضا علی عابدی کا کہنا تھا کہ کثیر الاشاعت جرائد اور ڈائجسٹوں نے ادب کو فروغ دیا ہو یا نہ دیا ہو لیکن انہوں نے زبان کو یقینی طور پر فروغ دیا ہے اور ان کی تعدادِ اشاعت سے ظاہر ہے کہ انہوں نے ہر دور میں نئے اور زیادہ سے زیادہ پڑھنے والے پیدا کیئے ہیں۔
دوسرے دن کے ان اجلاسوں کے بعد سلطان قابوس پر لکھی گئی ایک انتہائی دیدہ زیب کتاب کی تقریب کی رونمائی ہوئی۔ اس رونمائی کی صدارت پروفیسر گوپی چند نارنگ نے کی اور نظامت کے فرائض رضا علی عابدی نے انجام دیئے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ کتاب روسی میں لکھی گئی تھی۔ جس کا ترجمہ پہلے عربی میں اور اب اردو میں کیا گیا ہے۔
![]() | |
| مقتدرہ اردو زبان پاکستان کے سربراہ اور نقاد فتح محمد ملک |
اس اجلاس میں انکشاف کیا گیا کہ برطانیہ میں اردو زبان کی تدریس کا معیار اچھا نہیں ہے اور تدریس دینے والے ہی نہیں امتحانی بورڈ میں بھی ایسے لوگ موجود ہیں جنہیں نہ تو اردو آتی ہے اور نہ ہی انہوں نے اردو کی باقاعدہ تعلیم حاصل کی ہے۔
بین الاقوامی سطح پر اردو رسم الخط کے مسئلے پر ہونے والے اجلاس کی صدارت گوپی چند نارنگ نے کی جب کہ اس کے مقررین میں اصغر ندیم سید، ابوالکلا قاسمی اور منیر پرویز سامی شامل تھے اور اس نظامت کے فرائض نجمہ عثمان نے انجام دیئے۔
تمام مقرین اور صدرِ اجلاس اس بات پر متفق تھے کہ کسی بھی زبان کا رسم الخط تبدیل کرنا اس کے لیئے فائدہ مند نہیں ہو سکتا۔ اس سلسلے میں ترکی اور انڈونیشیا کا حوالہ دیا گیا جہاں رومن رسم الخط اختیار کیا گیا ہے اور اب یہ حال ہے کہ ان کے تمام ادبی ورثے کا بڑا حصہ ناقابلِ استعمال ثابت ہو رہا ہے۔ جب کے زبان میں کوئی ترقی نہیں ہوئی۔
پروفیسر گوپی چند نارنگ کا کہنا تھا کہ رسم الخط زبان کا لباس نہیں اس کی کھال ہوتا ہے بالکل ایسے ہی جیسے کسی انسان کے جسم پر اس کی کھال ہوتی ہے۔ لباس تو تبدیل کیا جاتا ہے مسلسل تبدیل کیا جاتا ہے لیکن کسی کے جسم سے کھال اتار لی جائے یہ ناقابلِ تصور ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ سیدھا سیدھا فاشزم ہے اور جو اردو کے لیئے دیو ناگری رسم الخط کی تجاویز پیش کرتے ہیں وہ کسی بھی طرح اردو کے خیر خواہ نہیں ہیں۔
![]() | |
| کانفرنس کے آرگنائزر اور اردو ٹائمز کے ایڈیٹر خلیل الرحمٰن |
تیسرے دن کے تیسرے اجلاس کے دوران اردو ذرائع ابلاغ کی ذمہ داریوں کے حوالے سے ہونے والے اس اجلاس کی صدارت فتح محمد ملک نے کی۔ جب کہ اس اجلاس کے مقررین میں قمر علی عباسی، پیرزادہ قاسم اور ارمان نجمی شامل تھے۔ اس اجلاس کی نظامت کے فرائض سید حسن نے انجام دیئے۔
اس کے بعد کے اجلاس کا موضوع ’حمد، نعت اور مرثیے کا ادب میں مقام‘ تھا اس اجلاس کی صدارت افتخار عارف نے کی۔ جب کہ اس کے مقررین میں ظفر اقبال، منیر پرویز سامی، رضا علی عابدی اور سید نسیم اختر شامل تھے۔ اجلاس کی نظامت کے فرائض ڈاکٹر احسن زیدی نے انجام دیئے۔
تمام تر بحث کے بعد صدرِ اجلاس نے نعت، حمد، قصیدے اور مرثیے کی تاریخ کا انتہائی ’مختصر ترین‘ تحریری خلاصہ پیش کیا۔
ایک طرف تو انہوں نے ہومر سے زُہیر ابی سلمیٰ اعشٰی تک کی یاد دلائی اور دوسرے طرف تلسی سے اقبال تک رسائی کا قضیہ اٹھایا۔ اور پھر نعت کو جام بدایونی تک اور مرثیے کو ضمیر اختر نقوی تک لائے۔ مرثیہ گو خواتین میں ان کا آخری حوالہ تصویر فاطمہ کی کتاب ہے۔ اس کے باوجود اس اجلاس میں موضوع کے تقاضے پورے نہیں ہو سکے۔
![]() | |
| محفلِ موسیقی شوبھنا رانی اور شیلا رانی نے اپنے فن اور مہارت کا مظاہرہ کیا |