Tuesday, 27 June, 2006, 07:49 GMT 12:49 PST
فلسطینی مزاحتمت کاروں کی طرف سے اسرائیلی فوجی کے اغوا سے پیدا ہونے والی صورتحال پر امریکہ نے اسرائیل سے کہا ہے کہ صبر کا مظاہرہ کرے اور معاملےکو سفارتی ذریعوں سے حل کرنے کی کوشش کرے۔
امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس نے پاکستان کے دورہ پر جاتے ہوئے جہاز میں امریکی صحافیوں سے بات کرتے ہوئے اسرائیل پر زور دیا کہ وہ فوجی کے اغوا کا معاملہ سفارتی ذرائع سے حل کرنے کی کوشش کرے۔
اسرائیل نے کہا ہے کہ وہ اسرائیلی فوجی کی رہائی کے لیے ایک بڑا آپریشن کر سکتا ہے اور وہ فلسطینی مزاحمت کارروں کے مطالبوں کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہے۔
اسرائیلی ٹینک اور فوجی غزہ کی سرحد پر جمع ہونا شروع ہو گئے ہیں جہاں خیال کیا جاتا کہ مغوی اسرائیلی فوجی کو رکھا گیا ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم ایہود اولمرت نے کہا ہے کہ وہ اسرائیلی فوجی کی رہائی کے لیے فلسطینیوں گروپوں کا کوئی مطالبہ تسلیم نہیں کریں گے اور اگر اسرائیلی فوجی کو فوراً رہا نہ کیا گیا تو اسرائیل ایک بڑا آپریشن کرے گا۔
فلسطین کے تین شدت پسند گروپوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیل اپنی جیلوں میں قید عورتوں اور بچوں کو رہا کرے تو وہ مغوی اسرائیلی فوجی کو رہا کر دیں گے۔
اسرائیلی فوجی کو رہا کرانے کے لیے سفارتی کوششیں شروع ہو چکی ہیں اور مصر کا ایک وفد پہلے ہی غزہ کی پٹی میں پہنچ چکا ہے۔
پروشلم میں بی بی سی کے نامہ نگار جان لینی کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوجی کے اغوا سے پیدا ہونے والی صورتحال اسرائیلی حکومت اور فلسطینی اتھارٹی کی انتظامیہ کے لیے ایک امتحان ہے۔
بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق اگر اسرائیل نے فوجی کارروائی کا فیصلہ کیا تو اس کے فوجی کی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے لیکن اگر اس نے فوجی کارروائی نہ کرنے کا فیصلہ کیا تو اس کو اس کی کمزروی سے تعبیر کیا جائےگا۔