Tuesday, 27 June, 2006, 09:11 GMT 14:11 PST
افغانستان میں حکام نے تصدیق کی ہے کہ دو برطانوی فوجی طالبان کے ساتھ لڑائی میں ہلاک ہو گئے ہیں۔
مرنے والے فوجی جنوبی صوبہ ہلمند کے علاقے سنگن میں رات کے وقت گشت پر تھے جب ان پر مبینہ طور پر طالبان کی جانب سے حملہ کیا گیا۔ اس دوران راکٹ گرنیڈ سے ایک گاڑی تباہ ہو گئی اور لڑائی میں دو فوجی ہلاک جبکہ ایک زخمی ہو گیا۔
برطانیہ کی وزارت دفاع نے ان ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ فوجیوں کے ورثا کو اس کی اطلاع دی جا رہی ہے۔ اس حملے کے بعد ہلمند میں مرنے والے برطانوی فوجیوں کی تعداد تین ہو گئی ہے۔ ہلمند طالبان کی سرگرمیوں اور پوست کی کاشت کی وجہ سے مشہور ہے۔
اس سے قبل اس ماہ کے آغاز میں برطانوی فوجی کیپٹن جِم فلپسن ہلاک ہوئے تھے جن کا تعلق پیراشوٹ رجمنٹ رائل ہارس آرٹلری سے تھا۔
پچھلے ہفتے شدید لڑائی کے نتیجے میں افغان سِکیورٹی فورسز کے چالیس افراد کی ہلاکت کے بعد برطانوی فوج کی یہ کمپنی سنگن آئی تھی۔
برطانوی افواج کے ساتھ بی بی سی کے نمائندے الیسٹر لیتھیلڈ نے کہا ہے کہ طالبان اس علاقے میں حکومت کا ہیڈ کوارٹر چھیننے کے قریب تھے۔ ہمارے نامہ نگار کے مطابق اس ضلعے میں زیادہ تر علاقے پر طالبان کا کنٹرول ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ برطانوی فوجی کسی بھی وقت حملے کی توقع کر رہے تھے۔
اس سال کے آخر تک افغانستان میں برطانوی فوجیوں کی تعداد بڑھ کر پانچ ہزار سات سو ہو جائے گی جن میں سے زیادہ تر ہلمند میں تعینات ہوں گے۔ وہ اس علاقے میں نیٹو کے تعمیر نو کے کام کی نگرانی کر رہے ہیں جو امریکہ کی زیر قیادت طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد شروع کیا گیا تھا۔